کیچ میں اغواء برائے تاوان کے واقعات، فیملیز سے کروڑوں روپے کی مانگ

تربت( گدروشیاپوائنٹ) ضلع کیچ میں اغواء برائے تاوان کے واقعات، فیملیز سے کروڑوں روپے کی مانگ، شہریوں میں خوف اور تشویشِ کی لہر ۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع کیچ میں اغواء برائے تاوان کے واقعات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ تربت شہر سے اس دسمبر کے مہینے کے دوران دو افراد کو تاوان کی غرض سے اغواء کیا گیا جن کی رہائی کے بدلے اہلِخانہ سے کروڑوں روپے تاوان طلب کیا جارہا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کی جانب سے ریاستی اور متعلقہ اداروں سے فریاد کے باوجود تاحال مغویوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ فیملی ذرائع کے مطابق یکم دسمبر 2025 کو سابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فاروق رند کے بھائی اور معروف مقامی ٹھیکیدار گل جان رند کے فرزند شہنواز گل رند کو تربت کے علاقے ملائی بازار سے رات تقریباً 10 بجے اغواء کیا گیا۔ اغواء کاروں نے ان کی رہائی کے بدلے فیملی سے 60 کروڑ روپے تاوان طلب کیا ہے۔ اغواء برائے تاوان کا ایک اور واقعہ 8 دسمبر کو سامنے آیا جس میں آبسر کے کاروباری شخصیت اور نیشنل پارٹی کے مقامی رہنما ڈاکٹر یاسین بلوچ کے فرزند حسیب یاسین کو دکان سے گھر جاتے ہوئے موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے اغواء کرلیا۔ ذرائع کے مطابق ان کے اہلِخانہ سے بھی رہائی کے بدلے پہلے 30 کروڑ اب تین کروڑوں روپے تاوان طلب کیا جارہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ضلع میں اغواء برائے تاوان کے کیسز کی تعداد چار ہوچکی ہے تاہم دو مغویوں کے اہلِخانہ اب تک منظرِ عام پر نہیں آئے۔ بڑھتے ہوئے اغواء برائے تاوان کے واقعات پر صوبائی حکومت، محکمہ داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں جبکہ شہریوں بالخصوص کاروباری حلقوں میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔ سیاسی اور سول سوسائٹی حلقوں میں مطالبہ کیا جارہا ہے مکران بھر میں حالات خراب ہیں تربت اور پنجگور میں بینک اور دکانوں میں ڈکیتیوں کے ساتھ لوگوں کو پیسوں کے لئے اغواء کے سلسلے کو ہمیشہ کیلئے خاتمہ کیلئے ضروری ہے کہ تربت، پنجگور اور گوادر میں ایک ہی دن اور ایک ہی وقت پر عوامی جرگے کا انعقاد کیا جائے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اغواء اور ڈکیتیوں جیسے جرائم کی مذمت کی جائے اور حکومت پر مؤثر اقدامات کے لیے دباؤ ڈالا جائے بصورتِ دیگر مکران میں صورتحال مزید تشویشناک ہو سکتی ہے۔ آخر میں ضلع کیچ سمیت بلوچستان کے متعلقہ اداروں کے سربراہان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اغواء برائے تاوان میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام مغویوں کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔