میونسپل کارپوریشن تربت کا تیسرا بجٹ اجلاس، 17 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ منظور

تربت(گدروشیا پوائنٹ) میونسپل کارپوریشن تربت کا تیسرا بجٹ کونسل اجلاس اسپیکر کونسلر حاجی محمد اسلم کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں قائدِ ایوان اور میئر تربت بلخ شیر قاضی نے مالی سال 2025–26 کیلئے 17 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش کیا۔ جسے کونسل نے بھاری اکثریت سے منظور کرلیا۔ اجلاس میں چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن شعیب ناصر بھی شریک تھے۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا جس کی سعادت کوشک وارڈ کے کونسلر خلیل نصیر نے حاصل کی۔ اجلاس کے دوران سابق چیف آفیسر امداد بگٹی اور کونسلر رحیم بخش بلوچ کے ایصالِ ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ بجٹ تقریر کے دوران میئر بلخ شیر قاضی نے کونسل کو آگاہ کیا کہ گزشتہ مالی سال کے بجٹ کے 99 فیصد ترقیاتی منصوبے مکمل کیئے جاچکے ہیں۔ ان منصوبوں میں شہر کے مختلف اسکولوں کی سولرائزیشن، ٹیچنگ ہسپتال کو ضروری سہولیات کی فراہمی، مساجد کی مرمت، جنازہ گاہوں کی تعمیر، متعدد واٹر سپلائی اسکیموں کی سولرائزیشن اور بلوچستان اکیڈمی کے سیمینار ہال کی تزئین و آرائش شامل ہیں۔ میئر بلخ شیر قاضی نے کہا کہ محدود مالی وسائل کے باوجود شہری مسائل کے حل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن اور عوام دوست بجٹ ترتیب دیا گیا ہے۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیچنگ اسپتال تربت کی بہتری، تعلیمی اداروں خصوصاً اسکولوں کی ضروریات پوری کرنے، کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ اور ادبی، علمی و ثقافتی اداروں کی بہتری کیلئے مناسب فنڈز مختص کیئے گئے ہیں۔ اجلاس کے دوران کونسلر خان محمد جان گچکی نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے تربت شہر میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آئے روز سڑکوں کی بندش اور آمدو رفت میں رکاوٹوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔مطالبہ کیا کہ شریف النفس عوام، پیشہ ور شخصیات، مریضوں اور خواتین کو درپیش مسائل کے پیش نظر سیکیورٹی اقدامات کیلئے متبادل اور مؤثر حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ اجلاس کے اختتام پر اسپیکر کونسلر حاجی محمد اسلم جوسکی نے کونسل اجلاس کے اختتام کا اعلان کیا۔