تربت: اے ٹی ایم مشینیں عوام کے لیے دردِ سر، کیش کی مسلسل غیر دستیابی سے شہری اور کاروباری طبقہ پریشان

تربت(گدروشیا پوائنٹ) تربت میں نجی بینکوں کی اے ٹی ایم مشینیں سہولت کے بجائے عوام کے لیے دردِ سر بن گئیں۔ بلوچستان کا آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا شہر تربت، جہاں بینکاری سہولیات عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے خود ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہیں۔ شہر بھر میں درجنوں نجی و سرکاری بینک قائم ہیں تاہم اے ٹی ایم مشینوں کی مسلسل خرابی اور کیش کی عدم دستیابی نے بالخصوص ملازمین اور کاروباری طبقے کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔
ملازمین اور کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ ہر ماہ تنخواہوں کی ادائیگی کے دوران ایک ہفتے تک تقریباً تمام بینکوں کی اے ٹی ایم مشینیں بیک وقت خراب ہو جاتی ہیں یا کیش سے خالی رہتی ہیں۔ متاثرہ افراد کے مطابق احتجاجی بیانات اور شکایات کے باوجود صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آ سکی، جبکہ صوبائی و وفاقی سیکریٹری فنانس، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر متعلقہ حکام اس مسئلے پر توجہ نہیں دے رہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مہینے کے تیس دنوں میں بمشکل ایک یا دو بینکوں کی اے ٹی ایم مشینیں فعال ہوتی ہیں جبکہ باقی مشینیں یا تو کیش سے خالی ہوتی ہیں یا تکنیکی خرابی کا شکار رہتی ہیں۔ شہریوں نے سوال اٹھایا کہ جب بینکوں میں کسی بھی ہنگامی یا دیگر صورتحال میں کیش بوریوں میں بھر کر فراہم کیا جا سکتا ہے تو عام شہریوں کے لیے اے ٹی ایم مشینوں میں کیش رکھنا کیوں ممکن نہیں؟
متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ عوام کے پیسے اگر عوام کے لیے نہیں تو پھر کس کے لیے ہیں؟ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ تربت میں قائم تمام بینکوں کے متعلقہ عملے کو جوابدہ بنایا جائے اور کیش کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر نظام وضع کیا جائے۔ ملازمین اور کاروباری طبقے نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اے ٹی ایم مشینیں صرف مہینے کے آخر میں ہی کیوں مسلسل خراب رہتی ہیں، کیش کی بروقت فراہمی کا کوئی مستقل انتظام کیوں نہیں، اور آخر کس کی غفلت کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں؟
شہریوں نے کمشنر مکران اور ڈپٹی کمشنر کیچ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بینک انتظامیہ کو طلب کریں اور عوام کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔ مزید کہا گیا ہے کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو باضابطہ خط لکھنے کے ساتھ ساتھ احتجاج ریکارڈ کرانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔