گوادر (گدروشیا پوائنٹ)پسنی کے ساحل پر ایک اور نایاب سبز کچھوا مردہ حالت میں برآمد ہوا ہے، جس کے بعد دسمبر کے مہینے میں ساحلی علاقے پسنی میں سبز کچھوؤں کی ہلاکتوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔ مسلسل اموات نے ماہرینِ ابی حیات اور ماحولیاتی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق مردہ سبز کچھوا پسنی کے ساحلی پٹی پر پایا گیا، جس کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ محکموں اور مقامی رضاکاروں نے موقع پر پہنچ کر ابتدائی معائنہ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سبز کچھوا عالمی سطح پر نایاب اور محفوظ سمندری حیات میں شمار ہوتا ہے، اور اس کی مسلسل ہلاکتیں ماحولیاتی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ ماہرینِ ابی حیات کے مطابق سبز کچھوؤں کی اموات کی ممکنہ وجوہات میں آلودگی، ماہی گیری کے جال، سمندر میں پلاسٹک کا کچرا، کشتیوں سے ٹکراؤ اور پانی کے درجۂ حرارت میں غیر معمولی تبدیلیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ساحلی حیات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ماہرین اور سماجی حلقوں نے سبز کچھوؤں کی مسلسل اموات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں، تاکہ اصل وجوہات سامنے آ سکیں۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ ساحلی ماحول کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اپنائی جائے اور نایاب سمندری حیات کو بچانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ واضح رہے کہ بلوچستان کا ساحلی علاقہ سبز کچھوؤں کی افزائش نسل کے اہم مراکز میں شامل ہے، جہاں ہر سال یہ کچھوے انڈے دینے کے لیے آتے ہیں، تاہم حالیہ اموات نے ساحلی ماحولیاتی توازن پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

