تربت(گدروشیاپوائنٹ) تربت ٹو کوئٹہ شاہراہ تجابان کے مقام پر آج تیسرے روز بھی مکمل طور پر بند ہے، لاپتہ افراد کے لواحقین کا ضلعی انتظامیہ سے مزاکرات ناکام، جس کے باعث تربت سے پنجگور اور کوئٹہ جانے والی مسافر اور مال بردار گاڑیاں مختلف مقامات پر پھنس کر رہ گئیں۔ شاہراہ کی بندش ضلع کیچ کے علاقے کرکی تجابان سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے چار افراد کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف لواحقین کے احتجاج کے باعث ہوئی ہے۔ فیملی ذرائع کے مطابق لاپتہ افراد میں دو خواتین شامل ہیں جن میں ایک آٹھ ماہ کی حاملہ خاتون بھی شامل ہے جبکہ دو کمسن بچے بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ لاپتہ دونوں خواتین سمیت چاروں افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے احتجاج جاری رہے گا۔ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں۔ فیملی کی جانب سے شدید سردی میں احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ سیاسی و سماجی حلقوں اپیل کیا کہ حکومت درمیانہ راستہ نکال کر فیملی اور مسافروں کو ریلیف دیں۔

