تربت(گدروشیاپوائنٹ) تربت ٹو کوئٹہ شاہراہ تجابان کے مقام پر آج دوسرے روز بھی مکمل طور پر بند ہے جس کے باعث تربت سے پنجگور اور کوئٹہ جانے والی مسافر اور مال بردار گاڑیاں مختلف مقامات پر پھنس کر رہ گئیں۔ شاہراہ کی بندش ضلع کیچ کے علاقے کرکی تجابان سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے چار افراد کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف لواحقین کے احتجاج کے باعث ہوئی ہے۔ فیملی ذرائع کے مطابق لاپتہ افراد میں دو خواتین شامل ہیں جن میں ایک آٹھ ماہ کی حاملہ خاتون بھی شامل ہے جبکہ دو کمسن بچے بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ احتجاجی دھرنا تجابان اور ہیرونک کے مقامات پر جاری ہے جس کے باعث سی پیک روڈ سمیت اہم شاہراہیں تاحال بلاک ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے احتجاج جاری رہے گا۔ دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر تربت کی سربراہی میں انتظامیہ کی مذاکراتی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی۔ رات کو مذاکرات ہوئی ہے تاہم تاحال کوئی پیش رفت نہ ہوسکی اور شاہراہ بدستور بند ہے۔ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں۔

