کوئٹہ(گدروشیا پوائنٹ) بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا ہے کہ غمزدہ ہو کر رونے کے بجائے منظم جدوجہد کی ضرورت ہے لاپتہ افراد کا مسئلہ مزید سنگین ہے اب بلوچستان بھر سے بلوچ لڑکیوں کو اغواء کیا جارہا ہے۔ رواں سال اب تک 20 سے زائد بلوچ خواتین کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا ہے۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ لاپتہ بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی نے 22 دسمبر سے پانچ روزہ احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ احتجاج کے پہلے روز 22 دسمبر کو آن لائن پٹیشن دائر کی جائے گی جبکہ دوسرے روز ویڈیو مزمتی بیانات ریکارڈ کرکے جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ تیسرے روز آرٹ ریزسٹنس کے تحت تھیٹر پلے یا پینٹنگز کے ذریعے بلوچ خواتین کی گمشدگیوں کو اجاگر کیا جائے جبکہ چوتھے روز علامتی احتجاج کیا جائے گا جس میں ہر بلوچ گھروں یا محلوں میں پلے کارڈز یا لاپتہ افراد کی تصاویر اٹھا کر احتجاج ریکارڈ کیا جائے گا اور ان کی تصاویر جاری کی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ احتجاجی تحریک کے پانچویں اور آخری روز ایک ویب سیمینار منعقد کیا جائے گا جس میں لاپتہ بلوچ خواتین کے مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔

