تربت: مقتول محبوب علی کے اہلِ خانہ کی پریس کانفرنس، شفاف تحقیقات کا مطالبہ

تُربت(گدروشیا پوائنٹ)دشت کے علاقے مکسر میں 9 اکتوبر 2025ء کو نوجوان محبوب علی ولد بابو علی کو سفاکی سے قتل کیے جانے کے واقعے پر مقتول کے اہلِ خانہ نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کی جانب سے عائد تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اہلِ خانہ نے کہا کہ واقعے کے تین دن بعد تنظیم نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے ذمہ داری قبول کی اور محبوب علی پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگائے، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ تنظیم کی جانب سے “مبینہ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاکت” کا دعویٰ مکمل طور پر جھوٹا ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق جائے وقوعہ پر کسی بھی مقابلے یا فائرنگ کے آثار نہیں ملے نہ خول، نہ گولیاں، نہ جھڑپ کے نشانات۔ موقع پر موجود شواہد اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ محبوب علی کو راستے میں روک کر قتل کیا گیا اور ان کی لاش کو گھسیٹا گیا۔اہلِ خانہ نے سوال اٹھایا کہ اگر محبوب علی کے ساتھ کوئی شخص زخمی تھا تو اسے آج تک منظرِ عام پر کیوں نہیں لایا گیا؟ اسے کہاں رکھا گیا ہے اور کون چھپا رہا ہے؟ پریس کانفرنس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ محبوب علی کی موٹر سائیکل کہاں ہے اور اسے کس نے غائب کیا؟ اہلِ خانہ نے کہا کہ محبوب علی امن پسند، شریف اور کاروباری نوجوان تھے، جن کا کسی تنظیم، گروہ یا غیر قانونی سرگرمی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ صرف چند کاروباری معاملات کے سلسلے میں دشت گئے تھے۔ ان کے خلاف الزام تراشی سراسر بہتان ہے۔ اہلِ خانہ نے بتایا کہ بلوچی روایت کے مطابق شہید کے چہلم تک تعزیت کا سلسلہ جاری رہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پریس کانفرنس میں تاخیر ہوئی۔ اس دوران ہر پہلو سے تحقیق کی گئی اور نتائج سے واضح ہوا کہ یہ واقعہ کسی مقابلے کا نہیں بلکہ بے گناہ نوجوان کے قتل کا ہے۔ اہلِ خانہ نے کہا کہ جو تنظیمیں آزادی کی جدوجہد کا دعویٰ کرتی ہیں، ان کی پہلی ذمہ داری اپنے لوگوں کا تحفظ ہوتی ہے، مگر یہاں الٹا بغیر تحقیق، بغیر ثبوت، الزام تراشی اور اپنے ہی لوگوں کو نشانہ بنانا ہے۔ اہلِ خانہ نے تنظیم سے درج ذیل سوالات کے واضح اور ثبوتوں پر مبنی جواب کا مطالبہ کیا. محبوب علی پر عائد الزامات کے کون سے ٹھوس شواہد موجود ہیں؟ کیا کوئی ویڈیو، تصویر، آڈیو یا معتبر ثبوت ہے؟ اگر جھڑپ ہوئی تھی تو اس کے شواہد کہاں ہیں؟ زخمی ساتھی کہاں ہے؟ محبوب علی کی موٹر سائیکل کہاں گئی؟ اگر کوئی ثبوت تھا تو انہیں قانون کے مطابق گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیوں نہ کیا گیا؟ قتل کیوں کیا گیا؟ اہلِ خانہ نے کہا کہ وہ دشمنی اور انتشار نہیں چاہتے بلکہ صرف سچ اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید محبوب علی کے قتل کے خلاف آواز ہر فورم پر بلند کی جائے گی اور انصاف کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔