گوادر(گدروشیا پوائنٹ)بی این پی عوامی کے مرکزی سیکریٹری جنرل سعید فیض ایڈووکیٹ نے گوادر پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے تمام عہدوں اور بنیادی رکنیت سے اجتماعی استعفے کا باضابطہ اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ کسی ذاتی رنجش کا نتیجہ ہے اور نہ ہی وقتی جذبات کا، بلکہ یہ پارٹی کے اندر طویل عرصے سے جاری غیر جمہوری رویوں، شخصی آمریت، مشاورت کے فقدان اور پارٹی آئین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف ایک اصولی فیصلہ ہے۔ سعید فیض ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ پارٹی کے اندر اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھا جاتا رہا، فیصلہ سازی کو ایک فرد کے تابع کردیا گیا، اور ادارہ جاتی سیاست کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ ان کے مطابق اسی شخصی طرزِ سیاست نے ماضی میں بھی بی این پی عوامی کو دو مرتبہ شدید انتشار اور تقسیم سے دوچار کیا تھا، اور افسوس کہ وہی صورتحال اب دوبارہ جنم لے چکی ہے۔انہوں نے سینٹرل کمیٹی کے چناؤ کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ مرکزی کونسل سیشن میں آئین کے مطابق بند اجلاس کے دوران انتخاب ہونا ضروری تھا، مگر پارٹی صدر نے اس عمل کو روک دیا اور بعدازاں ڈیڑھ سال تک کابینہ کا اجلاس تک نہیں بلایا۔ اس دوران پارٹی صدر نے اکیلے ہی سنٹرل کمیٹی کے ارکان مقرر کردیے، جو کہ ان کے بقول شخصی آمریت کی بدترین مثال ہے۔سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ انہیں کسی فیصلے میں شامل نہیں کیا جاتا تھا، مشاورت کی جگہ احکامات نے لے لی تھی، جبکہ احترام اور جوابدہی کا ماحول ختم ہو چکا تھا۔ ایسے حالات میں سنجیدہ سیاسی کارکن اپنا کردار ادا نہیں کرسکتے۔انہوں نے بلوچستان کی حساس صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں سیاسی جماعتوں کو اجتماعی قیادت، اصولی سیاست اور عوامی وژن کی ضرورت ہے، مگر بدقسمتی سے پارٹی میں وہ سیاسی تربیت اور جمہوری فضا باقی نہیں رہی۔ سعید فیض ایڈووکیٹ نے اعلان کیا کہ وہ بطور سیکریٹری جنرل اپنے عہدے اور بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیتے ہیں، اور ان کے ساتھ گوادر، پسنی، جیونی، اورماڑہ، اور مادہ اپنی جیوں سمیت ضلع و تحصیل سطح کے بڑی تعداد میں عہدیداران اور کارکنان بھی پارٹی سے اجتماعی استعفی دے رہے ہیں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنی سیاسی جدوجہد، بلوچستان اور عوام کے حقوق کے لئے اپنے نظریات اور اصولوں کے مطابق جاری رکھیں گے اور مستقبل کا لائحہ عمل جلد پیش کریں گے۔

