پسنی:فش ہاربر جیٹی بدحالی کا شکار، مقامی معیشت تباہی کے دہانے پر، خادمِ پسنی لالا سیلانی

پسنی(گدروشیا پوائنٹ)خادمِ پسنی لالا سیلانی نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پسنی فش ہاربر جیٹی کی مسلسل نظراندازی نے علاقے کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ اس کا سب سے بڑا بوجھ مقامی ماہی گیر برادری اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق پسنی کا ساحلی علاقہ ہمیشہ ماہی گیری کا اہم مرکز رہا ہے، مگر گزشتہ کئی برسوں سے جیٹی کی دیکھ بھال، ڈیجنگ اور مرمت کا عمل مکمل طور پر تعطل کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 56 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم کی گئی فش ہاربر اتھارٹی جیٹی آج بدحالی کا شکار ہو کر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے۔ خراب صورتحال کے باعث ماہی گیروں کی کشتیاں جیٹی پر لنگر انداز نہیں ہو سکتیں، جس کے باعث انہیں دوسرے علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، اور اس سے نہ صرف ایندھن و وقت کا ضیاع ہو رہا ہے بلکہ مقامی تجارت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ خادم لالا سیلانی کا کہنا تھا کہ مقامی ماہی گیر کئی دہائیوں سے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ جیٹی کی فوری ازسرِنو بحالی اور ڈیجنگ کی جائے، تاہم حکومتی سطح پر اب تک کوئی سنجیدہ قدم نہیں اُٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پسنی کا ساحل اگر درست منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ پورے بلوچستان کی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت بلوچستان، فشریز ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ جیٹی کی بحالی کو فوری ترجیح دیتے ہوئے مرمت، ڈیجنگ اور دیکھ بھال کا عمل شروع کیا جائے، تاکہ سینکڑوں خاندانوں کا روزگار بحال ہو سکے اور علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کو دوبارہ فروغ ملے۔
خادمِ پسنی نے عوامی نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ اس اہم عوامی مسئلے پر خاموشی توڑیں اور اپنا کردار ادا کریں، تاکہ پسنی دوبارہ اقتصادی سرگرمیوں کا فعال مرکز بن سکے۔