تربت: محکمہ تعلیم کی عارضی اسامیوں کے متاثر امیدواروں کی پریس کانفرنس

تربت(گدروشیا پوائنٹ)تربت پریس کلب میں محکمہ تعلیم کیچ کی عارضی اسامیوں کے متاثر امیدواروں نے عمران سدھیر کی قیادت میں مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں شئے دؤاد، محراب خان اور مزار صالح بھی موجود تھے۔ امیدواروں نے بتایا کہ گزشتہ سال حکومت بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں عارضی بھرتیوں کا فیصلہ کیا گیا تھا، لیکن عمل میں سنگین بے ضابطگیوں کے باعث درجنوں امیدوار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ امیدواروں کے مطابق، اکتوبر 2024 میں شروع ہونے والے بھرتی کے عمل کے تحت جنوری میں متعدد اہل امیدواروں کو آرڈرز جاری کیے گئے، مگر بعد میں شکایات کے بعد بنائی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے سیاسی دباؤ میں آ کر یکطرفہ فیصلہ دیا اور آرڈرز منسوخ کر دیے۔ مزید بتایا گیا کہ Complaint Redressal Committee (CRC) کا لازمی مرحلہ مکمل ہونے سے پہلے تمام تقرریاں منسوخ کر دی گئیں، اور تین افسران کی معطلی کے بعد سیکرٹری ایجوکیشن نے انہیں بحال کر دیا، جو عمل پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔ متاثر امیدواروں نے عدالت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 24 نومبر 2025 کو عدالت نے واضح حکم دیا کہ CRC کے مرحلے کو مکمل کیا جائے اور کیس کو میرٹ کی بنیاد پر نمٹایا جائے۔ پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ ضلع کیچ کے سینکڑوں اسکول آج بھی بند ہیں، متعدد اسکولوں کی عمارتیں موجود ہونے کے باوجود اساتذہ کی عدم تعیناتی کے باعث تدریسی عمل معطل ہے، جس سے تعلیم کا معیار تیزی سے تنزلی کا شکار ہے۔ مقررین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے دیگر اضلاع میں تین فیز مکمل ہو چکے ہیں، مگر کیچ میں سیاسی مداخلت اور محکمہ کی غیر سنجیدگی کے باعث پہلا فیز بھی مکمل نہیں ہو پایا۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر امیدواروں نے زور دیا کہ ضلع کیچ کی تعلیمی زبوں حالی کا خاتمہ صرف میرٹ، شفافیت اور عدالتی فیصلوں کے احترام سے ممکن ہے۔