حب(گدروشیا پوائنٹ)جرمن کمپنی کی سرمایہ کار ٹیم کے حب اور گڈانی دورے کے دوران صوبائی وزیر زراعت میر علی حسن زہری کے ہمراہ سیکیورٹی اور پروٹوکول کے مناظر سامنے آئے، جن پر سوشل میڈیا پر مختلف قسم کی تنقید کی گئی۔ تنقید کرنے والوں کا مؤقف تھا کہ پروٹوکول “ضرورت سے زیادہ” تھا،عام عوام کے لیے مشکلات پیدا ہوئیں۔ سرکاری وسائل کے “بے جا استعمال” کا تاثر دیا گیا،کچھ صارفین نے اسے “سیاسی شو” قرار دیا. تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق،یہ پروٹوکول حکومت بلوچستان اور وفاق کی خصوصی ہدایات پر دیا گیا تھا سرمایہ کاری کرنے والی جرمن کمپنی AOCH GmbH کی ٹیم حساس ساحلی علاقوں کا معائنہ کر رہی تھی 50 ملین ڈالر کے مجوزہ منصوبوں میں آئل ریفائنری، ماحولیاتی سیکیورٹی اور شپ بریکنگ کے بڑے پروجیکٹس شامل ہیں غیر ملکی ٹیم کی حفاظت، نقل و حرکت اور رسمی میزبانی سرکاری طریقہ کار کا حصہ تھی. اسی لیے پروٹوکول دکھائی دے رہا تھا، جسے کچھ حلقوں نے غلط فہمی یا نامکمل معلومات کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا

