تربت(گدروشیا پوائنٹ) بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے زیر اہتمام مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کے خلاف ایک اہم سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت بی این پی عوامی کے مرکزی نائب صدر ظریف زدگ بلوچ کر رہے تھے۔ سیمینار میں مختلف سیاسی، سماجی رہنماؤں اور وکلاء نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیچ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید مجید شاہ ایڈووکیٹ، آل پارٹیز کیچ کے کنوینر نواب شمبے زئی،تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست اور جماعت اسلامی کیچ کے سابق امیر غلام یاسین نے ایکٹ کی سخت مخالفت کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی معدنی دولت پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے، جبکہ نئے ایکٹ کے ذریعے وسائل پر مرکز کی گرفت بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق 18ویں ترمیم صوبائی اختیارات کی بنیاد ہے اور اس کے برخلاف کوئی قانون قابل قبول نہیں۔ بی این پی عوامی کے مرکزی نائب صدر ظریف زدگ بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 نہ صرف صوبائی خودمختاری کے منافی ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل 172(3) کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اخر میں بی این پی عوامی کیچ کے صدر اور اسٹیج سیکرٹری سید عابد نور نے قرارداد پیش کی جو منظور کر لی گئی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کو 18ویں ترمیم کے منافی ہونے پر فوری واپس لیا جائے اور آئین کے آرٹیکل 172(3) کے مطابق صوبوں کے وسائل پر ان کے حق کو تسلیم کیا جائے۔ مزید کہا گیا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2002 کو بحال کیا جائے، بیرونی کمپنیوں کو دی گئی لیز منسوخ کی جائیں، اور نئی قانون سازی سے قبل متعلقہ اضلاع کے اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔ قرارداد میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ صوبے سے باہر کی کسی کمپنی کو لیز دینے کی صورت میں مقامی آبادی کو شریکِ حق دار بنانا ضروری ہے۔

