تربت: بلوچستان اکیڈمی میں شاعر شہداد خان چاہسری کی پہلی برسی پر تعزیتی ریفرنس

تربت(گدروشیا پوائنٹ) بلوچستان اکیڈمی تربت کی جانب سے تربت کی معروف ادبی و سماجی شخصیت اور بلوچی زبان کے شاعر شہداد خان چاہسری کی پہلی برسی کے موقع پر ان کی ادبی و سماجی خدمات کے اعتراف میں ایک تعزیتی ریفرنس اکیڈمی کے چیئرمین ڈاکٹر غفور شاد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ تقریب میں مرحوم کے فرزند اور صوبائی اسپیشل سیکریٹری صحت بلوچستان شیہک شہداد بلوچ، اکیڈمی کے بانی پروفیسر واجہ غنی پرواز، سینئر ادبی شخصیت واجہ یوسف عزیز گچکی، بلوچی اکیڈمی کوئٹہ کے سابق چیئرمین سنگت رفیق بلوچ اور پروفیسر باقر علی شاکر نے خطاب کیا جبکہ مولانا شاہجہان درزادہ نے انکی مغفرت کیلئے دعا کرائی۔ مقررین نے مرحوم کی زندگی، شخصیت اور علمی و سماجی خدمات پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا جن میں مرحوم کے صاحبزادے شیہک شہداد بلوچ نے کہا کہ بلوچستان اکیڈمی تربت قابلِ شکریہ ہے کہ انہوں نے ان کے والد کی پہلی برسی کے موقع پر ایک باوقار تقریب کا اہتمام کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہداد خان چاہسری ہمیشہ سماج کے محروم طبقات کی آواز بنے رہے۔ وہ ایک وژنری ایجوکیشنسٹ اور ریفارمسٹ تھے، جو نہ صرف اپنی اولاد بلکہ پورے معاشرے کے لیے بہتری کے خواہاں تھے۔
چیئرمین بلوچستان اکیڈمی تربت ڈاکٹر غفور شاد نے کہا کہ واجہ شہداد چاہسری کی یاد میں تقریبات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ سابقہ کابینہ کے فیصلے کے مطابق ہر ماہ مرحوم شعراء و ادباء کی یاد میں پروگرام منعقد کیے جائیں گے، جبکہ زندہ شعراء و ادباء کے اعزاز میں بھی خصوصی پروگرام ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ واجہ شہداد نہ صرف بہترین شاعر تھے بلکہ ایک مہربان، ہمدرد اور مثبت سوچ رکھنے والے انسان بھی تھے۔ ان کی روح آج بھی اپنی شاعری کی صورت میں زندہ ہے۔پروفیسر باقر شاکر اور یوسف عزیز گچکی نے کہا کہ ان کی شہداد چاہسری سے شناسائی 1982 سے ہے۔ ان کے اشعار ریڈیو پاکستان میں ریکارڈ بھی کرائے گئے۔ ان کی کتاب کی اشاعت کے موقع پر جب پیش لفظ لکھنے کا موقع ملا تو ان کی شاعری کے فنی حسن اور فکری گہرائی کا بہتر اندازہ ہوا۔ وہ الفاظ کو سادگی کے ساتھ گہرے فکری انداز میں پروتے تھے۔پروفیسر غنی پرواز نے کہا کہ شہداد چاہسری ایک باصلاحیت شاعر، سادہ مزاج، ملنسار اور مردم دوست شخصیت تھے۔ انہوں نے سماجی، ادبی اور سیاسی موضوعات پر موثر شاعری کی۔ ان کی کتاب “برتکگیں اوست” شائع ہوچکی ہے۔سنگت رفیق بلوچ نے کہا کہ شہداد خان چاہسری نہ صرف ایک حساس دل کے شاعر تھے بلکہ معاشرے میں مثبت سوچ، انسانی قدروں اور بلوچی ثقافت کے فروغ کے لیے سرگرم رہے۔ وہ نوجوانوں کی تعلیم، زبان اور ثقافت سے وابستگی کو اپنی جدوجہد کا مرکز سمجھتے تھے۔ ان کی شاعری میں بلوچی تہذیب، روایات اور انسان دوستی کی جھلک نمایاں ہے۔تقریب کی نظامت کے فرائض اکیڈمی کے جنرل سیکریٹری اور صحافی مقبول ناصر نے انجام دیئے۔ آخر میں ریفریشمنٹ کا اہتمام کیاگیا تھا۔