تربت(گدروشیا پوائنٹ) صوبائی وزیر صحت کے احکامات پر اسپتالوں میں بہتری کیلئے اہم اقدامات جاری، اسپیشل سیکرٹری شیہک بلوچ کی تربت میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر تربت سمیت صوبے کے تمام اسپتالوں کا دورہ کرنے، مسائل اجاگر کرنے اور فوری حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں صوبائی اسپیشل سیکریٹری صحت شیہک شہداد بلوچ نے تربت ٹیچنگ اسپتال کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسپتال کی مجموعی کارکردگی تسلی بخش ہے تاہم بہتری کی گنجائش موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ مختلف انتظامی امور کو ضلعی سطح پر حل کرنے میں بھرپور تعاون کررہے ہیں۔ جبکہ کچھ معاملات صوبائی سطح پر حل کیے جائیں گے۔ ایچ آر کے مؤثر استعمال، عملے کی ورک ڈسٹریبیوشن اور مریضوں کو بروقت ادویات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہیلتھ کمیٹی کے چیئرمین ڈی سی کیچ بشیر احمد بڑیچ ایم ایس، ڈی ایچ او اور اسپتالوں کے مختلف شعبوں کے یونٹ کے سربراہان کا مشترکہ میٹنگ جلد بلائیں گے۔ انہوں نے سیٹلائٹ فارمیسی سسٹم کے آغاز کا بھی اعلان کیا کہ مختلف وارڈز میں ان ڈور اور آؤٹ ڈور مریضوں کے لیے جدید، مربوط فارمیسی سسٹم دسمبر تک فعال کر دیا جائے گا۔ شیہک شہداد بلوچ نے مزید بتایا کہ سی ایل ایف کے ساتھ ایم او یو طے پا چکا ہے جس کے تحت تربت میں جدید ترین چائلڈ لائف وارڈ قائم کیا جائے گا۔ اسی طرح ایمپیٹس نامی انٹرنیشنل فرم ہسپتال کی ریمپنگ اور جدید طبی آلات کی فراہمی میں معاونت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام وارڈز کی مرمت اور مشینری کی فراہمی کا عمل اگلے ماہ سے شروع ہوجائے گا۔
ہیلتھ کارڈ کے حوالے سے سوال کے جواب میں صوبائی اسپیشل سیکریٹری شیہک بلوچ نے بتایا کہ کچھ نجی اسپتالوں کی جانب سے ہیلتھ کارڈ سروس معطل کیئے جانے کے معاملات کا نوٹس لیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ ان اسپتالوں کا ازسرِ نوجائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ تربت کے نجی رجسٹرڈ اسپتال اب بھی خدمات فراہم کر رہے ہیں اور اب تک ایک ہزار سے زائد کیسز اپلوڈ ہوچکے ہیں جن کی ادائیگی بھی کی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے آنے والے ان ڈور مریضوں کا علاج اولین ترجیح ہوگا۔ جبکہ فنڈز کی شفاف تقسیم ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کے ذریعے یقینی بنائی جائے گی۔
سیٹلائٹ فارمیسی سسٹم کے حوالے سے صوبائی اسپیشل سیکریٹری شیہک بلوچ نے بتایا کہ مرکزی فارمیسی کے ساتھ ساتھ سیٹلائٹ فارمیسیز قائم کی جارہی ہیں۔ جس کے لیے حکومت بلوچستان ایک جدید سافٹ ویئر تیار کر چکی ہے۔ فارماسسٹ کو اس پر تربیت دے دی گئی ہے اور جلد ہی تمام ادویات اسی سافٹ ویئر کے ذریعے مریضوں کو فراہم کی جائیں گی۔ مریض کا CNIC اور موبائل نمبر درج ہونے سے ڈرگ ٹریکنگ سسٹم مزید مؤثر ہوگا۔ جس سے موسمی امراض، ادویات کی طلب اور ممکنہ بے ضابطگیوں کا فوری پتہ چل سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام نہ صرف شفافیت لائے گا بلکہ سرکاری ادویات کے غلط استعمال کی روک تھام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ فارماسسٹ کی تربیت مکمل ہے اور بہت جلد سیٹلائٹ فارمیسیز کو مکمل طور پر جدید نظام پر منتقل کر دیا جائے گا۔

