تربت(گدروشیا پوائنٹ) مکران میڈیکل کالج تربت میں ورلڈ پری میچیورٹی ڈے کے موقع پر 17 نومبر کو خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کیا۔ تقریب میں طلبہ، نرسنگ اسٹاف، بچوں کے والدین اور ہیلتھ پروفیشنلز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سیمینار کا مقصد قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی پیچیدگیوں، علاج، نگہداشت اور آگاہی کو فروغ دینا تھا۔ اس موقع پر کم وزن اور قبل از وقت پیدا ہونے والے چھ شیرخوار بچوں کی کامیاب کہانیاں والدین نے سامعین کے ساتھ شیئر کیں، جن میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی انتھک محنت اور جدید طبی نگہداشت کا کردار نمایاں رہا۔ مقررین نے بتایا کہ 37 ہفتوں سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کو خصوصی نگہداشت، مسلسل مشاہدہ اور ماہر ٹیم کی فوری توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ خصوصی وارڈز، انکیوبیٹرز، صحت بخش غذائیت اور بروقت تشخیص ایسے عوامل ہیں جو ان بچوں کی بقا اور صحت کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تقریب کے مہمانوں نے مکّران میڈیکل کالج میں بچوں کی نگہداشت کے جدید یونٹ اور اسٹاف کی کاوشوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کی آگاہی مہمات علاقے میں ماں اور بچے کی صحت کے بہتر نتائج میں معاون ثابت ہوں گی۔ سیمینار میں مکّران میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر افضل خالق، وائس پرنسپل اور ایم ایس ٹیچنگ اسپتال تربت ڈاکٹر وحید بلیدی، چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر مصباح منیر اور چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر پیر جان بلوچ نے بتایا کہ پری میچورٹی (Prematurity) اس حالت کو کہتے ہیں جب بچہ 37 ہفتے سے پہلے پیدا ہو جائے۔ ڈاکٹرز نے کہاکہ پری میچورٹی کی وجوہات میں ماں کے صحت کے مسائل، بلڈ پریشر، شوگر، انفیکشن، خون کی کمی، جڑواں حمل، ماں کی کم یا زیادہ عمر اور حمل کی پیچیدگیاں شامل ہیں۔ پری میچور بچوں کو سانس کی دشواری، کم وزن، جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے میں مشکل، انفیکشن کے خطرے اور دودھ پینے میں مسئلہ ہو سکتا ہے۔ ایسے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے اکثر انہیں NICU میں رکھا جاتا ہے جہاں آکسیجن، گرمائش، خصوصی فیڈنگ اور مکمل نگرانی فراہم کی جاتی ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے حاملہ خاتون کا باقاعدہ چیک اپ، متوازن غذا، انفیکشن کا بروقت علاج اور وزن و ذہنی دباؤ پر قابو ضروری ہے۔ ڈاکٹر مصباح منیر نے والدین اور خاندان پر زور دیا کہ حاملہ خواتین کو فروٹ اور وٹامنز سے بھرپور خوراک فراہم کریں تاکہ ماں اور بچے دونوں صحت مند رہیں۔

