میر اوتمان اور میر فدا حکیم رند , مکران کے دو چمکتے ستارے
تحریر: صدف گل
بلوچستان کے وسیع اور تاریخی خطے *مکران* کو ہمیشہ ایسے باصلاحیت، مخلص اور عوام دوست رہنماؤں پر فخر رہا ہے جنہوں نے نہ صرف علاقائی ترقی کو اپنا نصب العین بنایا بلکہ عوام کے دلوں میں اپنی محنت، خلوص اور خدمت سے جگہ بنائی۔ آج مکران کے ایسے ہی دو چمکتے ہوئے ستاروں کا ذکر ضروری ہے:
ڈسٹرکٹ چیئرمین ضلع کیچ میر اوتمان اور معروف سیاسی و سماجی رہنماء میر فدا حکیم رند۔
میر اوتمان ایک انسان دوست، شفاف کردار کے حامل اور غریب پرور شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی قیادت میں ضلع کیچ میں فلاحی سرگرمیوں، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمت کے جذبے نے ایک نئی جہت اختیار کی ہے۔ وہ ہمیشہ بے آواز طبقے کی آواز بنے، بغیر کسی نمود و نمائش کے غریبوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی۔ میر اوتمان کی پہچان ان کا عاجزانہ رویہ، دروازہ ہر وقت عوام کے لیے کھلا رکھنا اور عملی کاموں سے خود کو منوانا ہے۔
دوسری طرف میر فدا حکیم رند مکران خصوصا مند کے عوام کیلئے ایک باہمت، باشعور اور متحرک رہنماء کی حیثیت رکھتے ہیں،
وہ نہ صرف سیاست بلکہ ادب، تعلیم، کھیل اور سماجی ترقی کے میدان میں بھی اپنی خدمات سے نوجوان نسل کو متاثر کر چکے ہیں، ہر سال آل مکران فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد ذاتی خرچے پر انعقاد اور کلاسیکل شاعر ملا فاضل رند کی یاد میں ادبی پروگرام کا اہتمام ان کی ثقافتی وابستگی کا مظہر ہے، میر فدا حکیم رند نے ہمیشہ علاقائی مسائل کو قو۔می پلیٹ فارم پر اجاگر کیا اور پسماندہ علاقوں کی آواز بن کر ابھرے۔یہ دونوں شخصیات نہ صرف عوام کے حقیقی خدمتگار ہیں ان کی موجودگی مکران کے نوجوانوں کیلئے ایک امید، ایک مثال اور ایک مشعل راہ ہے، اور دنوں رہنما اصولوں ، سچائی اور خدمت کے نظریے پر قائم ہیں، مکران کو آج بھی ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو صرف الیکشن کے وقت نہیں بلکہ ہر مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑے ہوں جیسا کہ میر اوتمان اور میر فدا حکیم رند کھڑے ہیں۔

