کوئٹہ (گدروشیا پوائنٹ)بنگلہ دیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم پر سزائے موت سنادی۔
بنگلہ دیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے ملک کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کو گزشتہ سال طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن میں مبینہ کردار پر سزائے موت سنادی ہے۔ 78 سالہ شیخ حسینہ کو عدم موجودگی میں عدالتی کارروائی کے دوران احتجاج میں ہونے والی 1,400 ہلاکتوں کی “اصل منصوبہ ساز اور مرکزی ذمہ دار” قرار دیا گیا۔عدالت نے سابق وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان کو بھی احتجاج کرنے والوں کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال میں کردار پر سزائے موت سنائی۔ دونوں رہنماؤں نے گزشتہ سال بھارت فرار ہوکر عدالتی کارروائی سے گریز کیا تھا۔کیس میں ایک اور اہم ملزم، سابق انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری عبداللہ المامون کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انہوں نے عدالت کے سامنے ریاستی گواہ بن کر شیخ حسینہ کے خلاف بیان دیا اور اپنے کردار کا اعترافِ جرم بھی کیا۔ بنگلہ دیشی حکام نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیخ حسینہ اور اسد الزمان خان کو فوری طور پر حوالے کرے۔ تاہم بھارتی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

