تربت(گدروشیا پوائنٹ) تربت میں “روڈ اونچا، گھر نیچا۔ عوام کی قسمت بھی ایسی ہی الٹی سیدھی”۔ تربت کے علاقے شاہی تمپ تا سنیماچوک روڈ کو کشادہ کرکے دوبارہ بلیک ٹاپ کیا جارہا ہے۔ مٹی پھیکنے کا عمل فی الحال کام شاہی تمپ تا چاہ سر ایئرپورٹ کراس تک پہنچ چکا ہےجو ایک خوش آئند اقدام ہے۔ تاہم علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گھروں اور دکانوں کے سامنے مٹی ڈال کر سڑک کو تقریباً چار فٹ اونچا کیا جارہا ہے جس سے ان کے گھر اور دکانیں سڑک سے نیچے ہو جائیں گی۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے گھروں اور دکانوں میں داخل ہونے اور نکلنے میں مشکلات پیش آئیں گی جبکہ بارش کی صورت میں پانی سڑک سے بہہ کر گھروں اور دکانوں میں داخل ہوجائے گا۔ اسی طرح ملک آباد میں واقع مسجد کے نمازی بھی پریشان ہیں کیونکہ سڑک مسجد کے دروازے سے تقریباً چار فٹ اونچی بنائی جارہی ہے۔ بزرگ نمازیوں کے لیے مسجد میں داخل ہونا اور باہر نکلنا مشکل ہوجائے گا۔
“بلندی پر سڑک، پستی میں مکان، یہی ہے ہمارے منصوبوں کا نشان”
اس حوالے سے علاقہ مکینوں دل جان، سہراب قادر، ظہیر اختر اور عدنان وارث نے کہا کہ بذریعہ لیٹر ڈپٹی پی ڈی سری پروجیکٹ اور متعلقہ حکام کو آگاہ کیا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں متعدد گھروں کے مرکزی دروازے مٹی میں دب گئے ہیں، جس سے مکینوں کے لیے اپنے گھروں میں داخل ہونا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ اسی طرح بلند سڑک کے سبب گھروں کی دیواروں کی اونچائی کم ہو گیا نہیں جس سے خاص طور پر خواتین کی پردہ داری متاثر ہو رہی ہےکیونکہ سڑک کی اونچائی کے باعث گاڑیوں کے گزرنے پر گھروں کے اندر کا حصہ نمایاں نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سڑک کی یہ بلند سطح نکاسی آب کے لیے سنگین خطرہ بن گئی ہے۔ بارش کی صورت میں بارش کا پانی ممکنہ طور پر اطراف کی گلیوں میں جمع ہوکر گھروں کے اندر داخل ہوسکتا ہے، جس سے مکینوں کو مالی نقصان اور صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسلئے یہ ناقص پلان کو تبدیل کروایا جائے سڑک کو زیادہ بلند نہ رکھا جائے اور پہلے سڑک کے کنارے سیوریج لائن بچھایا جائے تاکہ کچھ سالوں کے بعد حکومت کو خود سڑک توڑنا نہ پڑے ۔
ترقی کی دوڑ میں ہم اتنے آگے نکلے،
کہ اب دروازے سے سڑک تک سیڑھیاں رکھنی پڑتی ہیں

