نام اور کام زندگی کے دو بنیادی ستون
تحریر: عبدالباسط فیضی
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ عزت مقام اور وقار کبھی کسی کے محض نام یا نسب کی وجہ سے نہیں ملے۔ انسان کے نام کے ساتھ جب تک اس کی محنت کردار اور خدمات کا تعارف نہ جڑے تب تک نام صرف ایک لفظ ہی رہتا ہے۔ اصل مقام وہی پاتا ہے جس کے کام میں سچائی بھی ہو اور بھلائی بھی
انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو اسے ایک نام مل جاتا ہے، لیکن جب وہ دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو لوگ اس کے جانے کے بعد نام سے زیادہ اس کے کام کو یاد رکھتے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ نام تو سب کا ہوتا ہے مگر کام سب کے نہیں ہوتے۔
یہاں کامیابی اُن کے قدم چومتی ہے جو خواب دیکھ کر اُن کی تعبیر کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔ جو لوگ دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرتے ہیں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں معاشرے میں خیر پھیلاتے ہیں وہ عام نہیں رہتےوہ لوگ شخصیات کہلاتے ہیں۔
دنیا انسان سے یہ نہیں پوچھتی کہ آپ کون ہیں
بلکہ یہ پوچھتی ہے کہ آپ کرتے کیا ہیں؟
اور یہی سوال طے کرتا ہے کہ معاشرہ آپ کو کتنی عزت دے گا۔
جو لوگ اپنے نام کے ساتھ اپنے کردار کی روشنی لے کر چلتے ہیں وہ جہاں بھی جاتے ہیں عزت اُن کے قدموں میں پڑتی ہے۔ اور جو محض نام پر غرور کرتے ہیں وہ وقت کے ساتھ گمنامی میں گم ہو جاتے ہیں۔
کام ہی انسان کی وقعت بنتا ہے۔ چاہے وہ علم کی خدمت ہو دین کی دعوت ہو انسانیت کی فلاح ہو یا وطن کی ترقی جو بھی کام لوگوں کے لئے بھلائی کا سبب بنے وہ انسان کو عزت کے اعلیٰ مقام تک پہنچا دیتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ اپنی پہچان کو مضبوط بنانے کے لئے نام پر نہیں کام پر بھروسہ کریں۔ وہ کام جو ہمیں رب کے نزدیک بھی بلند کرے اور لوگوں کے دلوں میں بھی جگہ دے۔

