یادوں کا دن شہادتوں کا پیام

”یادوں کا دن شہادتوں کا پیام”

تحریر: شئے ریاض احمد.

2 ستمبر 2025 عظیم قومی رہشون سردار عطاء اللہ خان مینگل کی چوتھی برسی کے مناسبت سے بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب کوئٹہ شاہوانی اسٹیڈیم میں جلسہ عام منعقد کیا گیا جس میں بلوچستان کے باشعور عوام نے بھرپور شرکت کرکے رہشون سردار عطاء اللہ خان مینگل کی قومی جدوجہد و قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا. جدوجہد محض ایک لفظ نہیں، یہ عزم اور استقامت کا نام ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے، وہ طاقت ہے جو مایوسی کو امید میں بدل دیتی ہے. اکابرین کی جدوجہد و قربانیاں ہمیں یہ سبق سکھاتے ہیں کہ جدوجہد قربانی مانگتی ہے، صبر کا تقاضا کرتی ہے اور مصائب و مشکلات سے گزر کر کامیابی کی منزلیں طے ہوتی ہیں۔
جلسے کے اختتام کے بعد جب لوگ اسٹیڈیم سے سردار اختر جان مینگل ،محمود خان اچکزئی کے قافلے کے ساتھ سریاب کی جانب روانہ ہوئے اسی دوران ایک خودکش حملہ آور نے قافلے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑادیا جس کے نتیجے میں شہداء شاہوانی اسٹیڈیم بشیر احمد، محمد اسحاق، نجیب اللہ، حاجی محمد حنیف،اللہ بخش، نجیب اللہ، نصراللہ، عبدالنبی،شان پھنل، محمد احسان، ارشد،مدد خان، وقار کشانی، علی نواز، حفیظ اللہ اور ڈاکٹر نور مینگل نے جام شہادت نوش کیا اور کئی دوست جن میں احمد نواز بلوچ، موسی بلوچ سمیت زخمی ہوئے.
برسی کے دن ریاستی نااہلی نے نئی شہادتوں کے تحفے بلوچستان کی مفلوق الحال عوام کو دئے.
بلوچستان میں پہلے سے عوامی بے چینی اور حکمرانوں پر اعتماد کا فقدان ھے. اس المناک واقعے نے اسے مزید گہرا کر دیا، معصوم لوگوں کی شہادت اور زخمی ہونے کی وجہ سے آل پارٹیز بشمول‌ بلوچستان نیشنل پارٹی نے عوامی ردعمل دیا جو احتجاجی تحریک کا اعلان شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ۂڑتال سے کیا گیا جبکہ تین دن سوگ کا اعلان بھی کیا گیا .
صوبائی نااہل حکومت کا رویہ اور بیانات غیر سنجیدگی پر محیط رہے . حکومت نے دفعہ 144 کا نفاذ کرکے عوام کی آئینی و جمہوری حقوق اور جدوجہد کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی .بلوچستان میں ویسے حالات کشیدگی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور حکومت ان کے حل کیلئےسنجیدگی نہیں دکھانے کے بجائے انہیں مزید کشیدگی طرف دھکیل رہے ہیں۔
خودکش حملے نے بلوچستان کے سیاسی مستقبل پر گہرا اثر چھوڑا ، عوامی اعتماد مجروح ہوئی، ریاست کے پالیسیوں سے لوگ خوف کے شکار ہیں کیوں کہ یہ حملہ بلوچستان کی جدوجہد اور پاکستان کی سیاست پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے، بلوچستان کو اس وقت امن اور سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے،بلوچستان میں ناامیدی کی جو فضاء قائم کی گئی ہے اسے حکومت کی سنجیدہ روش سے سلجھانے کی ضرورت ہے جو بدقسمتی سے آج تک ممکن نہیں ہو سکا.
2 ستمبر کا دن ہر سیاسی ورکرز کیلئے محض ایک برسی نہیں بلکہ ایک ایسا تازہ زخم چھوڑا کر گیا کہ اب جب بھی رہشون سردار عطاء اللہ خان مینگل کو یاد کرنے کیلئے بلوچستان کے باشعور اور سیاسی جہدکار دو ستمبر کو جمع ہونگے تو انہیں اپنی سیاسی ساتھیوں کی یادیں بہت شدت سے محسوس ہونگے .شہداء کی یہ قربانی رئیگاں نہیں بلکہ بلوچستان کی تاریخ میں ایک نئی روح پھونک دیا جوکہ تاریخ میں رقم طراز ہونگے، عوام کی جو جم غفیر قومی رہشون کی برسی میں انکی جدوجہد و قومی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے آئے تھے، لیکن ریاستی بے حسی نے اس دن کو خون آلود کر دیا جس سے معصوم جانیں جام شہادت نوش کر گئے۔

بلوچستان کا ہر دل غم سے بوجھل ہے، آنکھیں اشکبار ہیں، لیکن سر فخر سے بلند ہیں.کیونکہ برسی کے دن کی یہ نئی شہادتیں بتا رہی ہیں کہ خواب ادھورے نہیں رہیں گے، قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، جدوجہد پست نہیں ہونگے، عوام مایوس نہیں ہوگا ،اس میں مزید استقامت اور سیاسی شدت آئے گی،اندھیروں کی یہ کالی راتیں شہداء کی خون سے روشنی لاکر صبح کو منور کرینگے۔

شہادت کوئی حادثہ نہیں یہ ایک عظیم رُتبہ ہے قربانی اور وفاداری کا وہ روشن چراغ ہے جو آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ ہیں. وہ نہ صرف سیاسی جدوجہد کرنے والے ساتھی تھے بلکہ ایک سوچ، ایک نظریہ اور ایک عزم کی علامت تھے۔ انہوں نے ظلم کے سامنے سرجھکانے کے بجائے حق کا علَم بلند کیا۔ ہمیشہ بلوچستان کے مظلوم و محکوم عوام کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھ کر ہر لمحہ حق کے لیے کھڑے رھے.

شہید نجیب اللہ کے کمسن بچے کی ویکٹری سامنے سے گزرا جو یتیمی کے غم کے ساتھ بھی حوصلے اور عزم کے ساتھ کھڑا ہے،شہید اسحاق صدف مینگل جو مزدوری کے ساتھ ساتھ جہد مسلسل کے پروانے تھے ۔یہ حملہ صرف ایک دہشت گردی نہیں بلکہ بلوچستان کی سیاست، روایت اور معاشرے پر گہرا اثر چھوڑ گیا اور اسکے اثرات مزید بدترین معاشی، سیاسی، بحران کو بلوچستان میں جنم دیں گے اگر اسکا ازالہ نہ کیا گیا ؟

وقت و حالات اور بہتے لہو نے بلوچستان کے سیاسی جماعتوں کو ایک بار پھر ظلم و ناانصافی کے سامنے مزاحمت کیلئے متحد کیا یہ اتحاد قومی مفادات کیلئے مفید ہوسکتی ہے اگر وقتی اتحاد کے بجائے مستقل اور اصولی اتحاد بنایا جائے. اس اتحاد کے کئی اثرات سامنے آ سکتے ہیں .مستقل اتحاد مضبوط اور پائیدار بنیاد فراہم کرتا ہے۔ عوام اور کارکنوں کا اعتماد مشترکہ مقاصد کیلئے پالیسی سازی اور حکمتِ عملی میں تسلسل آتا ہے، فیصلے مفادات کے بجائے اگر اصولوں پر ہوں تو سیاسی جماعتوں کی طاقت و یکجہتی سے پائیدار آسکتی ہے۔

اللہ تعالٰی سے شہداء کی مغفرت اور زخمیوں کی صحتیابی کیلئے دعا کرتے ہوئے اور اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں.

“خون شُہیدانی داں دوسد سال لسھیں، آھُوگ دو دنتان اَنت”

شہیدوں کا خون دو سو سال بعد بھی زندہ رہتا ہے، جیسے ہرن کے دو دانت ہمیشہ نمایاں ہوتے ہیں۔”