ہر اچھے کام پر تنقید کیوں؟
تحریر؛ یوسف ساسولی
ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں الفاظ کی تیزابیت، رویوں کی سختی اور نگاہوں کی تنقیدی تپش معمول بنتی جا رہی ہے۔ کسی کی محنت، اخلاص، یا نیت کو خراجِ تحسین دینے کی بجائے، لوگ اس کے کام میں خامیاں تلاش کرنے میں مہارت حاصل کر چکے ہیں۔ جیسے حوصلہ افزائی اب کوئی اخلاقی خوبی نہیں رہی بلکہ کمزوروں کی صفت سمجھی جاتی ہے، اور تنقید ایک فیشن، ایک فخریہ اندازِ بیان بن گیا ہے۔
یہ بات اب نفسیاتی اور معاشرتی تحقیق سے بھی ثابت ہو چکی ہے کہ مسلسل منفی ردعمل ایک فرد کی خود اعتمادی کو مجروح کرتا ہے اور اس کی تخلیقی قوتوں کو ماند کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر مارٹن سیلگمن، جو کہ ماہر نفسیات اور انسانی رویوں پر طویل تحقیق رکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ جب کسی شخص کو بار بار بلاجواز تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ ایک قسم کی ذہنی بے بسی کا شکار ہو جاتا ہے — ایک ایسا احساس کہ اب کوئی بھی کوشش کارگر نہیں ہوگی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ فرد پیچھے ہٹ جاتا ہے، خاموش ہو جاتا ہے، یا خود کو الگ کر لیتا ہے۔
پاکستانی سماج میں یہ مسئلہ محض انفرادی سطح پر نہیں بلکہ اجتماعی سوچ کا عکاس بنتا جا رہا ہے۔ ہم نے اختلاف کو دشمنی، اور تنقید کو فتح سمجھ لیا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس طرزِ عمل کو مزید ہوا دی ہے، جہاں نامعلوم لوگ، چہرہ چھپائے، دل توڑنے والے جملے بلا جھجک کہہ دیتے ہیں۔ ان کے الفاظ چھوٹے ہوتے ہیں، مگر اثرات گہرے، بعض اوقات مستقل ہوتے ہیں۔
کراچی یونیورسٹی کی معروف سماجی ماہر ڈاکٹر لبنیٰ طارق کے مطابق ہم ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کر رہے ہیں جہاں تعریف کرنا معیوب اور تنقید کرنا دانشوری کی علامت بن گیا ہے۔ ہم نے اپنے اندر سے وہ لطافت کھو دی ہے جو کسی دوسرے کی محنت کو سراہنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک عام انسان بھی غیر محسوس انداز میں یہ سیکھ رہا ہے کہ “اچھا کام کرو مگر توقع نہ رکھو کہ کوئی تمہیں داد دے گا ۔بلکہ تیار رہو کہ تمہیں طنز کا نشانہ بنایا جائے گا۔”
بچوں کی تربیت میں بھی ہم نے اس رجحان کو لاشعوری طور پر داخل کر دیا ہے۔ ان کی غلطیوں پر بار بار ڈانٹ، ان کی کوششوں پر خاموشی، اور مقابلے کی ایک ایسی فضا جہاں صرف کامیابی اہم ہو، عمل کا خلوص نہیں — یہ سب مستقبل کے ان بالغوں کی بنیاد رکھتا ہے جو کسی اور کی کامیابی سے یا تو جلتے ہیں، یا اس کی ٹانگ کھینچنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔
تنقید بذاتِ خود بری چیز نہیں، بلکہ یہ ترقی کا زینہ ہو سکتی ہے، اگر اس کا مقصد بہتری ہو، اگر اس میں نرمی ہو، اخلاص ہو، اور احترام باقی ہو۔ مگر جب تنقید صرف سامنے والے کو کمزور کرنے، نیچا دکھانے، یا اپنا غصہ نکالنے کا ذریعہ بن جائے تو وہ زہر بن جاتی ہے — ایک ایسا زہر جو نہ صرف مخاطب کو متاثر کرتا ہے، بلکہ بولنے والے کے باطن کو بھی مسموم کر دیتا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ ہر لفظ جو ہم بولتے ہیں، کسی نہ کسی دل پر اثر ڈالتا ہے۔ بعض اوقات ہم ایک ایسا جملہ کہتے ہیں جسے ہم لمحوں میں بھول جاتے ہیں، لیکن وہ جملہ کسی اور کے دل میں سالوں تک زخم کی صورت محفوظ رہتا ہے۔ اس لیے ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ دوسروں کی کوششوں کو کم نہ سمجھیں، ان کے سفر کو ان کے مقام سے نہ ناپیں، اور جب بولنا ہو تو الفاظ کے ساتھ دل بھی شامل کریں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بہتر ہو، تو ہمیں سب سے پہلے اپنی زبان سے شائستگی اور اپنی سوچ سے کشادگی پیدا کرنی ہوگی۔ کسی کے اچھے کام کو سراہنا، اس کے عزم کو تسلیم کرنا، اس کے سفر کی عزت کرنا — یہ کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک بالغ، مہذب اور باوقار معاشرے کی علامت ہے۔
یہی وہ رویہ ہے جو فرد کو اعتماد دیتا ہے، نسلوں کو روشنی، اور معاشرے کو امید بخشتا ہے۔

