مکران ڈویژن میں پرائیوٹ اسکولوں کا کردار اور تعلیمی خدمات
تحریر: عبدالباسط فیضی
مکران ڈویژن جیسے پسماندہ علاقوں میں تعلیم کا فروغ ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن اس شعبے میں پرائیوٹ اسکولوں نے جو کردار ادا کیا ہے، وہ کسی طور بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ محدود وسائل، سہولیات کی کمی کے باوجود، نجی تعلیمی ادارے معیاری تعلیم فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر تعلیمی ادارے میں کچھ نہ کچھ کمی یا کوتاہی ضرور ہوتی ہے، مگر ہمیں تنقید سے پہلے ان کی مجموعی کارکردگی اور خدمات کو دیکھنا چاہیے۔ پرائیوٹ اسکولوں نے نہ صرف طلبہ کو تعلیمی مواقع فراہم کیے، بلکہ والدین کو یہ یقین دلایا کہ ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
تعلیم کے میدان میں جدوجہد کرنے والے یہ ادارے دراصل قومی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ انہیں صرف منفی پروپیگنڈے کا نشانہ بنانا دراصل تعلیم دشمنی کے مترادف ہے۔ اگر ان اسکولوں میں بہتری کی گنجائش ہے، تو اس کے لیے تعمیری تنقید، رہنمائی اور تعاون کی ضرورت ہے، نہ کہ بلاوجہ الزام تراشی کی۔
ہمیں چاہیے کہ نجی تعلیمی اداروں کی کاوشوں کو سراہیں، ان کی مثبت اصلاح کے لیے ساتھ دیں، اور تعلیم کو سیاست یا مفادات سے بالا رکھ کر صرف قوم کے بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کی خاطر پرائیویٹ اسکولوں کے منجیمنٹ کےساتھ سپورٹ اور تعاون کریں ،تعلیم کے میدان میں جدوجہد کرنے والے یہ ادارے دراصل قومی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ انہیں صرف منفی پروپیگنڈے کا نشانہ بنانا دراصل تعلیم دشمنی کے مترادف ہے۔ اگر ان اسکولوں میں بہتری کی گنجائش ہے، تو اس کے لیے تعمیری تنقید، رہنمائی اور تعاون کی ضرورت ہے، نہ کہ بے جا الزام تراشی کی۔
بلاوجہ مخالفت اور تنقید کے بجائے تعلیمی اداروں کی کاوشوں کو سراہیں، ان کی مثبت اصلاح کے لیے ساتھ دیں، اور تعلیم کو سیاست یا مفادات سے۔ بالا رکھ کر صرف قوم کے بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کی خاطر پرائیویٹ اسکول والوں کی سپورٹ کریں اور انکو مثبت مشورہ دیں، اور انکی بہتر رہنمائی کریں
مکران ڈویژن میں پرائیویٹ اسکولوں کی کارکردگی نمایاں ہیں
بلوچستان کے مکران ڈویژن، بالخصوص ضلع کیچ تربت سٹی میں تعلیمی ترقی کی کہانی پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی جدوجہد اور وژن کے بغیر ادھوری ہے۔ ان اداروں نے نہ صرف تعلیمی شعور کو اجاگر کیا بلکہ پسماندہ علاقے میں معیاری تعلیم کی شمع روشن کر کے ہزاروں طلباء و طالبات کے مستقبل کو سنوارا۔
تربت شہر میں پرائیویٹ تعلیمی نظام کا باقاعدہ آغاز کیچ گرائمر ہائی اسکول سے ہوا، جس کی بنیاد مرحوم الحاج واجہ میجر دلمراد نے رکھی۔ یہ اسکول علاقائی سطح پر پہلا انگلش میڈیم پرائیویٹ اسکول تھا، جو ایک وژن کے ساتھ قائم کیا گیا تاکہ مقامی طلباء کو عالمی معیار کی تعلیم فراہم کی جا سکے۔ اس ادارے کی کامیابی نے دیگر لوگوں کو بھی حوصلہ دیا، جس کے نتیجے میں شہر اور گردونواح میں متعدد انگلش میڈیم اسکول قائم ہونے لگے۔
تعلیم کی اس تحریک کو مزید مؤثر اور منظم بنانے کے لیے “انگلش لیگ ولیج” کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ ادارہ مختلف پرائیویٹ اسکولوں کے اشتراک سے وجود میں آیا، جس کا مقصد علاقائی تعلیمی معیار کو بلند کرنا اور طلباء میں علمی، اخلاقی اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا تھا۔
ان تعلیمی اداروں کی کوششوں کے نتیجے میں آج تربت اور اس کے مضافات میں تعلیمی بیداری کا گراف نمایاں حد تک بلند ہو چکا ہے۔ ان اداروں سے فارغ التحصیل طلباء نے نہ صرف ملک کی نمایاں جامعات میں داخلہ حاصل کیا بلکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلاء اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ بہت سے افراد آج بیرونِ ملک مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جو ان اداروں کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
مکران ڈویژن میں پرائیویٹ اسکولوں کی خدمات صرف تعلیم تک محدود نہیں، بلکہ یہ ادارے سماجی ترقی، معاشی بہتری اور شعور کی بیداری کا ذریعہ بھی بن چکے ہیں۔ ان کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر وژن، خلوص اور محنت کے ساتھ کام کیا جائے تو پسماندہ ترین علاقے بھی علم و ترقی کے میدان میں نمایاں ہو سکتے ہیں۔

