بارڈر بندش: مکران کی معیشت، عوامی مشکلات اور حکومتی بے حسی
تحریر: عبدالباسط فیضی – کوآرڈینیٹر، ڈیجیٹل میڈیا سیل، جمعیت علماء اسلام کیچ
مکران ڈویژن، جو بلوچستان کے انتہائی اہم اور حساس سرحدی علاقوں پر مشتمل ہے، گزشتہ کئی سالوں سے معاشی بدحالی، بیروزگاری اور حکومتی بے توجہی کا شکار ہے۔ اس خطے کی اکثریتی آبادی کا روزگار ایران کے ساتھ لگنے والے سرحدی راستوں سے جڑی تجارتی سرگرمیوں سے وابستہ ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں ایران باڈر کی مسلسل بندش نے مقامی لوگوں کے لیے زندہ رہنا مشکل بنا دیا ہے۔
باڈر بندش کا سب سے پہلا اور براہِ راست اثر عوام کے روزگار پر پڑا ہے۔ مکران کے ہزاروں نوجوان روزانہ کی بنیاد پر قانونی و غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں میں شریک ہو کر اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں۔ جب ان کے لیے یہ راستہ بند کیا جاتا ہے تو متبادل روزگار نہ ہونے کی وجہ سے وہ یا تو مجرمانہ سرگرمیوں کی طرف مائل ہوتے ہیں یا پھر ہجرت پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انفرادی سطح پر تباہی لاتی ہے بلکہ معاشرے میں بدامنی، چوری چکاری، منشیات فروشی اور دیگر سماجی برائیوں کو جنم دیتی ہے۔
باڈر کی بندش نے مقامی اقدار کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ جہاں پہلے لوگ محنت مزدوری سے روزی کماتے تھے، آج وہ بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ گھروں میں فاقے، بچوں کی تعلیم میں رکاوٹیں اور علاج معالجے کی سہولیات سے محرومی جیسے مسائل عام ہو چکے ہیں۔ اس تمام تر صورتحال میں حکومتی خاموشی اور غفلت نے عوام کے دلوں میں مایوسی اور ناراضگی پیدا کر دی ہے۔
ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس مسئلے کا سنجیدہ نوٹس لے۔ باڈر مینجمنٹ کا ایک شفاف اور قابل عمل نظام متعارف کرایا جائے، تاکہ جائز تجارت کو فروغ دیا جا سکے اور مقامی لوگوں کو ان کا روزگار بحال ہو۔ ایران کے ساتھ سرحدی تعلقات کو بہتر بناتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان عوامی مفاد کو مدِنظر رکھا جائے۔
اگر ان مسائل کا فوری حل تلاش نہ کیا گیا تو مکران کے نوجوان ایک اندھیرے مستقبل کی طرف دھکیلے جائیں گے، جو نہ صرف علاقائی بلکہ قومی سطح پر بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت زبانی دعوؤں سے نکل کر عملی اقدامات کرے، اور بلوچستان کے مظلوم عوام کو ان کا بنیادی حق – روزگار اور امن – فراہم کرے۔

