تربت: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کا چوتھا مرکزی کونسل سیشن مکمل

تُربت(گدروشیا پوائنٹ)بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کا چوتھا مرکزی کونسل سیشن بعنوان “بیادِ عطاشاد و آزات جمالدینی، بنامِ بلوچ خواتین” کامیابی کے ساتھ کیچ میں اختتام پذیر ہوگیا۔ سیشن کی صدارت تنظیم کے سابق مرکزی چیئرمین شبیر بلوچ نے کی، جس میں صوبہ بھر سے تنظیمی اراکین، کارکنان اور مختلف زونز کے نمائندوں نے شرکت کی۔
کونسل سیشن کے دوران تنظیم کے مختلف ایجنڈے زیرِ غور آئے، جن میں تنظیمی کارکردگی، تعلیمی و سماجی سرگرمیوں کے فروغ، آئندہ کے لائحۂ عمل اور تنظیمی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل شامل تھی۔ اجلاس کے آخری سیشن میں تنظیم کے آئندہ دو سال کے لیے مرکزی انتخابات منعقد کیے گئے۔ انتخابات کے نتیجے میں عزیر بلوچ کو مرکزی چیئرمین، علی بلوچ کو وائس چیئرمین، پیرجان بلوچ کو سیکریٹری جنرل، تنویر بلوچ کو ڈپٹی جنرل سیکریٹری، اور فہد بلوچ کو انفارمیشن سیکریٹری منتخب کیا گیا۔ نومنتخب عہدیداران سے حلف برداری کی تقریب سرکٹ ہاؤس ہال کیچ میں منعقد ہوئی، جس میں سماجی، ادبی اور طلبہ تنظیموں کے نمائندوں سمیت مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف دانشور غنی پرواز نے بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ طلبہ تنظیمیں ہمیشہ قوموں کی فکری رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی ہیں، اور بی ایس اے سی نے بلوچ طلبہ میں شعور و آگاہی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی قوموں کی ترقی کا زینہ ہے اور بلوچ طلبہ کو اس میدان میں بھرپور محنت کرنی چاہیے۔

اس موقع پر ادیبہ و محققہ عصا ظفر نے اپنے خطاب میں بلوچ خواتین کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بلوچ معاشرے میں خواتین کا تعلیمی و سماجی کردار نہایت اہم ہے، اور بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے اس سیشن کو بلوچ خواتین کے نام منسوب کرنا ایک مثبت اور تاریخی قدم ہے۔

سابق چیئرمین شبیر بلوچ نے تنظیمی کارکنوں کو اتحاد، نظم و ضبط اور فکری یکجہتی برقرار رکھنے کی تلقین کی۔ نومنتخب چیئرمین عزیر بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ بی ایس اے سی کے نظریاتی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے بلوچ طلبہ کے حقوق، تعلیمی مسائل کے حل اور فکری بیداری کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
آخر میں شرکاء نے بی ایس اے سی کی نئی قیادت کو مبارکباد پیش کی