تربت: میر عبدالغفور احمد بزنجو کی پریس کانفرنس، بی این پی کے اندرونی معاملات پر گہری تشویش کا اظہار

تربت(گدروشیا پوائنٹ) سینئر سیاسی رہنما اور سابق صوبائی وزیر میر غفور احمد بزنجو کی زیرصدارت سید احسان شاہ کاروان کا اجلاس پارٹی دفتر میں منعقد ہوا، جس میں علاقے کے سیاسی اور عوامی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے میر غفور احمد بزنجو نے کہا کہ سابق وزیر خزانہ و سابق سینیٹر سید احسان شاہ ہمارے قائد ہیں۔ بی این پی مینگل کے حوالے سے ہمارے تمام کارکن ان کی سربراہی پر متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سید احسان شاہ کی تربت آمد کے موقع پر ہم بی این پی سے باقاعدہ علیحدگی اور سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے اور کارکنان کی مشاورت سے اپنے سیاسی مستقبل کا بھی فیصلہ کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سال سے نیشنل پارٹی اقتدار میں ہے، مگر ضلع کیچ سمیت پورے علاقے میں مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ نیشنل پارٹی کی دوغلی پالیسیوں، ناقص انتظامی کارکردگی اور سیاسی مفادات کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور بلوچ نوجوانوں کے روزگار کے مواقع جان بوجھ کر محدود کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت میں سید احسان شاہ کی کوششوں سے حاصل کی گئی آسامیوں پر اسٹے لگاکر نوجوانوں کے حقوق سلب کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے اپنے منشور میں پانی، بجلی، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے وعدے کیے تھے مگر عملی طور پر شہر کی صورتحال خراب ترین ہو چکی ہے۔ امن و امان کی صورتِ حال بھی بگڑ رہی ہے جبکہ حکمران جماعت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ دوسری جانب اپنے کارکنوں کو اپوزیشن کا تاثر دیا جا رہا ہے جبکہ اقتدار اور مختلف حکومتی کمیٹیوں میں اختیارات بھی انہی کے پاس ہیں۔ میر غفور احمد بزنجو نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے اپنے سابقہ دورِ اقتدار میں بلوچستان کی تاریخ کے بڑے کرپشن اسکینڈلز میں ریکارڈ قائم کیے تھے، جو آج بھی جاری ہیں۔ میونسپل کارپوریشن تربت کی مثال سامنے ہے جہاں مسلسل بجٹ کرپشن کی نذر ہو گئے، جبکہ شہر کی سڑکیں اور محلے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ سول ہسپتال تربت کی خستہ حالی سے مریض شدید مشکلات کا شکار ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کی پالیسی ہمیشہ بلوچ عوام کے معاشی مفادات کے خلاف رہی ہے۔ بارڈر ٹریڈ کی بندش سے ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بارڈر کو فوری طور پر کاروباری سرگرمیوں کے لیے کھولا جائے۔ایک سوال کے جواب میں میر غفور احمد بزنجو نے کہا کہ ہم جمہوری اور پارلیمانی طریقے سے عوامی مسائل کے حل پر یقین رکھتے ہیں۔ بی این پی مینگل کی موجودہ پالیسیوں سے ہمارے کارکنان مایوس ہو چکے ہیں۔ سید احسان شاہ کی تربت آمد کے بعد آئندہ سیاسی حکمتِ عملی کا اعلان کیا جائے گا۔ اس موقع پر قاضی نور احمد، میران حیات بلوچ، خان محمد جان گچکی، اسفند یار بزنجو، حاجی شریف احمد، اسلم شمبےزئی، حاجی خان محمد سمیت دیگر سینئر رہنما موجود تھے۔