تربت(گدروشیا پوائنٹ) ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کپکپار بارڈر بہت جلد کھول دیا جائے گا اور اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور ایرانی حکام کے ساتھ باضابطہ روابط قائم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عبدوئی بارڈر کو سیکیورٹی مسائل کے باعث تقریباً ایک ماہ قبل بند کیا گیا تھا تاہم اب نئے بارڈر کپکپار کے قیام اور اس کے کھولنے کے لیے اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔ اس سلسلے میں ایرانی حکام کو باضابطہ خط لکھا گیا ہے اور میٹنگ کے بعد بارڈر کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ بارڈر بندش کے باعث عوام اور تاجروں کو مشکلات کا سامنا رہا ہے، تاہم حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مقامی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور علاقے میں امن قائم رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان کی واضح ہدایات ہیں کہ بغیر این او سی کسی بھی جماعت یا سیاسی تنظیم کو احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کوئی گروہ یا جماعت این او سی لیے بغیر احتجاج کرے گا تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر بشیر احمد بڑیچ نے عوام کو یقین دلایا کہ کپکپار بارڈر کے کھلنے سے تجارتی سرگرمیاں بحال ہوں گی اور مقامی لوگوں کو ریلیف ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کے مسائل حل کرنے اور ان کو بروقت معلومات فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

