تربت: کیچ کلچرل فیسٹیول کا شاندار آغاز، علم و فن کا جشن

تربت (گدروشیا پوائنٹ)رنگوں، نغموں اور علم و فن کی خوشبو سے مہکتا “کیچ کلچرل فیسٹیول” شاندار اور تاریخی انداز میں شروع ہوگیا۔ افتتاحی تقریب میں ادیب و دانشور، سیاسی و سماجی رہنما، اساتذہ، طلبہ، خواتین، سول سوسائٹی، میڈیا نمائندگان، تاجر برادری اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔تقریب کے میزبان ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے کہا کہ کیچ کی سرزمین صدیوں سے علم، فن اور تہذیب کا استعارہ رہی ہے۔ یہ فیسٹیول نوجوانوں کو خواب، خیالات اور ہنر دنیا کے سامنے رکھنے کا پلیٹ فارم ہے۔سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ تہوار ہماری صدیوں پرانی تہذیب، موسیقی اور روایات کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل دانش کتاب میں ہے، سوشل میڈیا میں نہیں، اور نوجوانوں کو علم و ادب کی طرف راغب کرنا وقت کی ضرورت ہے۔افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی، پارلیمانی سیکرٹری برائے انرجی میر اصغر رند، مشیر کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔تقریب کے آغاز پر ڈاکٹر پرویز ہودبھائی، سبوخ سید اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ربن کاٹ کر فیسٹیول کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزراء اور سیکرٹریز نے اسٹالز کا معائنہ کیا اور پانچ ہزار سے زائد کتب لائبریریوں کے لیے خریدنے کا اعلان کیا۔مہمانِ خصوصی ڈاکٹر پرویز ہودبھائی نے پودا لگا کر “ہریالی اور ترقی” کا پیغام دیا۔ تقریب میں سینیٹر جان محمد بلیدی، سابق صوبائی وزیر لالا رشید دشتی، کمشنر مکران قادر بخش پرکانی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف تربت ڈاکٹر گل حسن، محققین اور سماجی رہنما بھی شریک ہوئے۔کیچ کلچرل فیسٹیول نے نہ صرف ایک شاندار روایت کو زندہ کیا بلکہ آنے والے دنوں میں علم، ادب، ثقافت اور ترقی کے نئے سفر کی بنیاد بھی رکھ دی۔