تربت(گدروشیا پوائنٹ) جی ٹی اے کیچ کے تحت تنظیم کےمرکزی چیف آرگنائزر منتخب ہونے اور تربت آمد پر اکبرعلی اکبر کےاعزاز میں شاندار استقبالیہ تقریب منعقد، مختلف اسکولوں کےہیڈز نےانہیں اعزازی شیلڈ پیش کرکےاعتماد کااظہارکیا۔ تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان ضلع کیچ کے زیر اہتمام جی ٹی اے کیچ کے ضلعی صدر اکبر علی اکبر کے مرکزی چیف آرگنائزر منتخب ہونے اور کوئٹہ سے تربت پہنچنے پر انکے اعزاز میں گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی اسکول تربت کے ہال میں شاندار استقبالیہ تقریب منعقد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت ڈویژنل صدر عبیداللہ بلیدی نے کی جبکہ مہمان خصوصی مرکزی چیف آرگنائزر اکبرعلی اکبر تھے۔ تقریب میں ضلع کیچ کے مختلف بوائز اور گرلز اسکول کے پرنسپل، ہیڈماسٹر اور ہیڈ مسٹریس نے شرکت کی۔تقریب سے ڈویژنل سینئر نائب صدر محمد اقبال، ڈویژنل جنرل سیکرٹری شیر جان دشتی، ضلعی چیئرمین مولا بخش بلوچ، ضلعی آرگنائزر نصیر احمد دشتی ، سینئر نائب صدر عبدالصمد،، سیساکیچ کے جنرل سیکرٹری اور ماڈل ہائی اسکول کے پرنسپل اکبر اسماعیل، ممتاز بلوچ ، ہیڈ مسٹریس تمپ میڈم شاری بلوچ اور دیگر ممبران موجود تھے۔
جی ٹی اے بلوچستان کے مرکزی چیف آرگنائزر اکبر علی اکبر نے استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف کیچ کے نہیں بلکہ بلوچستان کے 75 ہزار اساتذہ کے نمائندے ہیں۔ کیچ سمیت صوبے کے حق و حقوق کے لیے جدوجہد مزید تیز کی جائے گی اور اساتذہ کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داریاں پہلے سے بڑھ چکی ہیں، اب بلوچستان بھر کے اساتذہ کے مسائل کے حل کے لیے عملی کردار ادا کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ جی ٹی اے کیچ اور مکران ڈویژن متحد و منظم ہیں اور بازو بن کر ساتھ کھڑے ہیں۔۔ جبکہ تقریب سےمحمد اقبال، اکبر اسماعیل، شیرجان دشتی اور دیگر مقررین نے کہاکہ یہ ضلع کیچ سمیت مکران ڈویژن کے اساتذہ کی خوش قسمتی ہے کہ تربت مکران سے ہر دلعزیز اساتزہ رہنما اکبر علی اکبر صوبائی کابینہ میں بطور مرکزی چیف آرگنائزر منتخب ہوئے ہیں۔ کیونکہ اکبر علی اکبر ایک باوقار ، سنجیدہ اور قائدانہ صلاحیتوں کے مالک شخصیت ہیں۔ نہ صرف وہ فرض شناس استاد رہا ہے سکول ڈیوٹی کے دوران حاضرباش رہا ہے۔ پھر تنظیم میں ذمہ داریاں بھی خوب نبھایا ہے۔ بحثیت ممبر، ضلعی جنرل سیکرٹری اور ضلعی صدر ان کے لازوال قربانیاں ہیں۔ تربت، کوئٹہ تا اسلام آباد کے احتجاجوں بھرپور شرکت کرکے فرنٹ لائن پر رہے ہیں ان احتجاجوں میں لاٹھی چارج اور آنسو گیس برداشت کیا ہے۔ کیچ کے114 ٹیخرز کی بحالی, کوئٹہ میں ان کے ساتھ بیٹھ کر تادم مرگ بھوک ہڑتال کرکے تنظیم کی طرف انہیں آن کرکے حکمرانوں اور بیوروکریسی پر دباؤ بڑھا کر انہیں بحال کیا ہے تب جاکر کیچ کے 114فیملی مستقل نقصان سے بچ گئے۔ الغرض اب کیچ کیساتھ بلوچستان کے اساتذہ کی زمہ داری انکے حقوق و مراعات کی تحفظ انکے کندھے پر آگئے ہیں ہمیں ان پر مکمل اعتماد ہے وہ صوبائی قائدین کیساتھ مل کر ڈی آر اے، پروموشن، سینئرٹی لسث سمیت تمام مسائل حل کرائیں گے۔ مقررین نے کہا کہ میل و فیمیل ٹیچرز کو اتحاد و اتفاق کو برقرار رکھ متحد ہونا چاہیئے اور اپنے نمائندوں کے ہاتھ مضبوط رکھ کر حقوق حاصل کرسکتے ہیں۔ امید ہے چیف آرگنائزر اکبر علی اکبر کیچ کے اساتذہ کو ساتھ لیکر بلوچستان کے اساتذہ کے حقوق کا محافظ بنیں گے۔ پروگرام کے اختتام پر جی ٹی اے کے عہدیداروں، مممبرز، مختلف سکولوں کے ہیڈز نے انہیں اعزازی شیلڈ پیش کیا۔ پروگرام کے نظامت کے فرائض ضلعی جنرل سیکرٹری نسیم اکرم بلوچ نے سر انجام دیئے

