تربت: بلوچستان میں جمہوریت کے نام پر آمریت کو تقویت دی جارہی ہے بی این پی عوامی پریس کانفرنس

تربت(گدروشیا پوائنٹ)بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی نائب صدر ظریف زدگ نے تربت پریس کلب میں پریجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ آج کے اس پریس کانفرنس کے ذریعے بلوچستان کی عوام سے متوجہ ہیں کہ ہماری سرزمین بلوچستان میں 77 سالوں سے جمہوریت کے نام پر آمریت کو تقویت دی جا رہی ہے ملکی ادارے اپنی حدود سے ہٹ کر دوسرے اداروں میں بے جا مداخلت کرکے جمہوری عمل کو سبوتاژ کر رہے ہیں اور آئین و قانون کی حکمرانی سے انکار کرتے ہوئے بزور طاقت ملک کو چلانا ،عوام کی رائے کا احترام نہ کرنا اور مظلوم قوموں کی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی وجہ سے ملکی یکجہتی انتشار کا شکار ہے پسند و نہ پسند کی بنیاد پر فیصلے کرنا، آزاد عدلیہ کی بے حرمتی کرنا پارلیمنٹ کی توقیر کو ختم کرنا میڈیا پر قدغن لگانا جس کی وجہ سے یہاں انارکی پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہی عمل بی این پی (عوامی) کے مرکزی صدر رکن صوباٸی اسمبلی و راجی راہشون واجہ میر اسد اللہ بلوچ کے ساتھ اپنایا گیا کہ 9 جولائی کی رات راجی راہشون واجہ میر اسد اللہ بلوچ کے کوٸٹہ گھر پر چھاپہ ہوٸی جس سے چادر اور چاردیواری کی پامالی اور چار گھنٹوں تک سی،ٹی،ڈی سینٹر میں ذہنی ٹارچر کرنا ایک سینئر قومی عظیم لیڈر کےخلاف انتقامی کارروائی کا تسلسل ہے جو 2 سالوں سے جاری ہے اور حلقے پنجگور کی پی ایس ڈی پی یعنی صوباٸی فنڈز کو روکنا پورے ڈسٹرکٹ کو مفلوج کرکے رکھ دینا عوامی رائے کا احترام نہ کرنا زیادتی ہے۔ بی این پی (عوامی) سمجھتی ہے کہ ایسے ہتھکنڈوں سے جو پُر امن ماحول ہے اس میں مزید بے یقینی کی کیفیت اور احساس محرومی پیدا ہوتی ہے جو اس ملک و صوبے کےلئے یقینا نیک شگون نہیں ہے حاکم وقت بی این پی (عوامی) اور پارٹی کے ہمدردوں و پوری قیادت کو ایک سوچھی سمجھی منصوبے کے تحت انتقامی کارواٸیوں کی نشانہ بنا رہی ہے لہذا بی این پی (عوامی) یہ حق محفوظ رکھتی ہے کہ وہ آئینی و قانونی داٸرے میں رہ کر ایک جمہوری انداز میں اپنے ورکرز اور محسنوں کی دفاع کرکے بلوچستان کے مظلوم عوام کے ساتھ شانہ بشانہ مل کر اپنی جدوجہد کو جاری رکھے گی اور بی این پی (عوامی) حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے اپیل کرتی ہے کہ ہمارے خلاف جاری انتقامی کارروائیاں بند کی جاٸے اور پارٹی قیادت راجی راہشون واجہ میر اسد اللہ بلوچ کےخلاف جو من پسند ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس سے پورے بلوچستان کے عوام کی دل آزاری ہوئی ہے لہذا ایسے غیر جمہوری انداز کو مسترد کرتے ہوئے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ انتقامی کاروائی کو فوری طور پر بند کرکے ایف آٸی ار واپس لیا جاٸے اور لوگوں کو جینے کا حق دیا جائے جمہوری اداروں میں مداخلت بند کی جائے اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ بی این پی (عوامی) 2 ستمبر کو بی این پی کے جلسے کے شرکاء پر ہونے والے دھماکہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ دھماکہ بلوچستان کے عوام کو سیاست سے دور رکھنے کی روش اپناتے ہوٸے فسطاٸیت کی جا رہی ہے اس طرح کی عمل سے انارکی و انتشار کا ماحول پیدا ہوتی ہے بی این پی (عوامی) یہ سمجھتی ہے کہ فسطاٸیت پھیلا کر بلوچستان کے عوام کی ساحل و وسائل پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرنا چاہتے ہیں ۔اگر کوئی لیڈر بلوچستان کے ساحل و وسائل اور بلوچستان کے حق کی بات کرے تو نت نئے طریقے اپناتے ہوئے اسکی آواز کو دبانے یا ختم کرنے کیلئے غلط حربے استعمال کیے جاتے ہیں بلوچستان کے سیاسی قوم پرست رہنماؤں کو خاموش کروا کے بلوچستان کو غیر سیاسی کرنا چاہتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے وقت اور حالات میں بلوچستان کے عوام کو پہلے سے زیادہ یکجھتی کی اشد ضرورت ہے۔ بی این پی عوامی دکھ کی اس گھڑی میں بی این پی کیساتھ کھڑی ہیں اور دعا کرتی ہیں کہ اللہ پاک شہداء کے درجات کو بلند کرکے جنہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرماٸے اور زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے۔ پریس کانفرنس کے دوران بی این پی کیچ کے ضلع عہدیداروں سمیت کارکنان موجود تھے