تربت: محکمہ تعلیم کیچ کے ترقی پانے والے کلرکس کے اعزاز میں تقریب

تربت (گدروشیا پوائنٹ) بلوچستان گرینڈ الائنس کیچ کے زیرِ اہتمام گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت میں محکمہ تعلیم کیچ کے اپیکا سے تعلق رکھنے اور ترقی پانے والے کلرکس کے اعزاز میں تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پرتعلیمی شخصیات اپیکا کے رہنماؤں اور اساتذہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی ایڈیشنل ڈائریکٹر ایجوکیشن مکران ڈویژن صابر علی دانش تھے۔ جبکہ مہمانانِ گرامی میں الائنس کیچ کے کے چیئرمین حاجی ایاز اختر، مفتی سعید احمد، مکران ڈویژن اپیکا کے صدر سبزل خان اور بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت کے پرنسپل اکبر اسماعیل شامل تھے۔
پروگرام کا آغاز کلاک پاک کی تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا۔ تقریب میں حاصل مہر اور صغیر احمد کی وفات پر تعزیت کا اظہار بھی کیا گیا۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر ایجوکیشن مکران ڈویژن،صابر علی دانش نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کلرک کسی بھی محکمے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ان کے عہدے پر کسی دوسرے کا قبضہ نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پروموشن ہر ملازم کا بنیادی حق ہے جس کے حصول کے لیے جدوجہد اور سنجیدگی کی ضرورت ہے۔
گرینڈ الائنس کیچ کے آرگنائزر ایاز اختر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترقی دراصل اجتماعی اتحاد اور مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم متحد ہیں، کوئی رکاوٹ ہماری ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتی۔
اپنے خطاب میں اپیکا مکران ڈویژن کے صدر سبزل خان نے ترقی پانے والے ساتھیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابیاں اپیکا کی جدوجہد اور اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیچ سے نو ملازمین کو سینئر کلرک کے عہدے پر ترقی ملی ہے، جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ تمام عہدے دار اپنی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے نبھائیں تاکہ محکمہ تعلیم مزید مستحکم ہوسکے۔
پرنسپل اکبر اسماعیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اپیکا میں ایسے رہنما موجود ہیں جو کلرک برادری کے مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں اور ان کے مقدمات لڑ کر ان کے حقوق دلوا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دھڑوں میں بٹنے کی ضرورت نہیں، ہم سب ایک ہیں اور ہمارے مسائل بھی مشترکہ ہیں۔
عبدالشکور نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کلرک برادری کے اعزاز میں اس طرح کا پروگرام منعقد ہوا ہے جو کہ قابلِ تعریف ہے۔
تقریب میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض محمد اقبال بلوچ نے انجام دیئے جبکہ آخر میں ترقی پانے والے تمام ملازمین کو ان کے پروموشن آرڈرز تقسیم کیے گئے۔