تربت: مزدوروں کی کم از کم اجرت 75 ہزار روپے مقرر کی جائے، ایچ آر سی پی

تربت(گدروشیا پوائنٹ) ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) مکران ریجن کے زیراہتمام اور یورپی یونین کے تعاون سے “باعزت روزگار۔۔۔ہر شہری کا حق” کے عنوان سے پروگرام منعقد ہوا۔ پروگرام سے ایچ آر سی پی مکران کے ریجنل کوآرڈنیٹر پروفیسر غنی پرواز، ایڈووکیٹ عبدالمجید دشتی، الطاف بلوچ، بشیر کسانوی، شگراللہ یوسف، خان محمد جان گچکی، محمد کریم گچکی و دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ ریاست آئین و عالمی معاہدات کے تحت عوام کو معاشی تحفظ دینے کی پابند ہے مگر اس میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے خطے میں صنعتوں اور روزگار کے مواقع نہ ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے مکران میں انڈسٹریل زونز، اسکل ڈویلپمنٹ سینٹرز اور روزگار کے شفاف مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے نجی اداروں، بالخصوص اسکولوں میں اساتذہ اور اسٹاف کو کم از کم اجرت سے بھی کم معاوضہ دینے کی مذمت کی اور محکمہ محنت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
قرارداد میں مطالبات پیش کیے گئے کہ مزدوروں کی کم از کم اجرت 75 ہزار مقرر کی جائے، پرائیویٹ اسکول اساتذہ کو گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی تنخواہ دی جائے، ناصر آباد میں بند بازار کھولا جائے اور بلوچستان کے تمام صحافیوں کو اجرت و معاشی تحفظ فراہم کیا جائے۔
تقریب کے بعد باعزت روزگار کے حق میں علامتی مظاہرہ بھی کیا گیا، جس میں شرکاء نے روزگار و معاشی تحفظ کے حق میں نعرے درج پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔