زیارت (گدروشیا پوائنٹ)بلوچستان کے پرُامن و سیاحتی ضلع زیارت میں اسسٹنٹ کمشنر زیارت افضل باقی اور ان کے بیٹے کے اغوا کے واقعے کو کئی روز گزر گئے ہیں لیکن تاحال ان کا کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ اس صورتحال پر عوام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
ڈپٹی کمشنر زیارت ذکاء اللہ درانی نے میڈیا کو بتایا کہ مغوی اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کی بازیابی کے لیے تمام تر کوششیں جاری ہیں اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ باحفاظت بازیابی کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ اہلکار اور ان کا بیٹا خیریت کے ساتھ واپس آ سکیں۔
ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ اس اغوا کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی ہے جس کی وجہ سے تفتیش اور کارروائی میں مزید پیچیدگیاں سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم ضلعی انتظامیہ نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مغوی افراد کی بازیابی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔

