گوادر(گدروشیا پوائنٹ) ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشنوگرافی (NIO) انجینئر نعمت اللہ سوہو نے ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی معین رحمنٰ خان سے ملاقات کی، جس میں گوادر کے سمندری ماحولیاتی نظام، بلیو اکانومی، اور سمندری حیات کے تحفظ سے متعلق جاری اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انجینئر نعمت اللہ سوہو نے بتایا کہ حکومت پاکستان کے نیشنل ڈویلپمنٹ پلان کے تحت نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشنوگرافی گوادر میں سمندر سے جڑی معیشت کو فروغ دینے، سمندری حیات کے تحفظ اور ماحولیات کی بہتری کے لیے کئی تحقیقی اور تکنیکی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ اس ضمن میں گوادر میں ایک جدید اوشنوگرافک لیبارٹری بھی زیر تعمیر ہے، جو اپنی تکمیل کے بعد خطے میں میرین ریسرچ، پالیسی سازی، اور سسٹین ایبل بلیو گروتھ کے لیے بنیادی کردار ادا کرے گی۔
ڈی جی جی ڈی اے معین رحمنٰ خان نے NIO کے اقدامات کو سراہتے ہوئے انہیں خطے کی ترقی کے لیے نہایت اہم قرار دیا اور ادارے کو جی ڈی اے کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس میں جی ڈی اے ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی (GDA-ECHS) کے چیئرمین صمد احمد بلوچ نے ہاؤسنگ سوسائٹی کے منصوبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ GDA-ECHS فیز ون مکمل طور پر ڈیولپ ہو چکا ہے جہاں جی ڈی اے کے ملازمین بڑی تعداد میں رہائش پذیر ہیں۔ تاہم سوسائٹی میں ابھی بھی انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے ترقیاتی کام کرنے کی ضرورت ہے
ڈائریکٹر جنرل کو بتایا گیا جی ڈی اے نے بلوچستان بھر کے سرکاری ملازمین کے لیے گوادر میں ایک رہائشی منصوبہ GDA-ECHS فیز ٹو کے تحت متعارف کرایا، جس کے لیے نجی زمین خریدی گئی۔ تاہم، 11 سال بعد 2019 میں اس زمین کا اسٹیٹس اچانک اسٹیٹ لینڈ میں تبدیل کر دیا گیا، جس کا مقدمہ اس وقت بلوچستان ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ یہ منصوبہ 90 ایکڑ رقبے پر محیط ہے اور اس کی بحالی سے ہزاروں ملازمین کو رہائشی سہولتیں میسر آ سکتی ہیں۔
چیئرمین صمد بلوچ نے بتایا کہ سوسائٹی کی مالی خود کفالت اور مزید رہائشی یونٹس کی فراہمی کے لیے فیز ون میں دستیاب زمین پر کمرشل پلازہ اور رہائشی ٹاورز کی تعمیر کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، جس سے نہ صرف مالی وسائل میں اضافہ ہوگا بلکہ ان ملازمین کو بھی رہائش دی جا سکے گی جو پہلے مرحلے میں محروم رہ گئے تھے۔
ڈی جی جی ڈی اے نے اس تجویز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس پر عمل درآمد تیز کرنے کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی فنانسنگ کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں جی ڈی اے کی برج فنانسنگ، مالیاتی اداروں سے قرضہ جات، اور نجی شراکت داروں کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل شامل ہیں۔
اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شاہد علی، وائس چیئرمین GDA-ECHS نظر محمد، جی ڈی اے لیگل ٹیم کے امتیاز احمد ایڈووکیٹ، نورجہاں مینگل اور دیگر افسران بھی شریک تھے۔

