یونیورسٹی آف تربت میں “یومِ استحصالِ کشمیر” منایا گیا، کشمیری عوام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار

تربت (گدروشیا پوائنٹ) یونیورسٹی آف تربت میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام سے اظہارِ یکجہتی اور بھارتی ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے “یومِ استحصالِ کشمیر” منایا گیا۔ تقریب میں یونیورسٹی کے اساتذہ، انتظامی عملے، مختلف شعبہ جات کے سربراہان، طلبہ اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا آغاز کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار اور بھارتی مظالم کے خلاف ایک منٹ کی خاموشی سے کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور دیگر مقررین نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں، بھارتی آئین اور کشمیری عوام سے کیے گئے وعدوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی۔ اس غیرقانونی اقدام کے بعد وادی میں ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں تیزی آئی، ہزاروں بے گناہ کشمیری گرفتار کیے گئے اور تحریکِ آزادی کو دبانے کے لیے ظالمانہ ہتھکنڈے اپنائے گئے۔ مقررین نے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام جمہوری دعوؤں کی نفی اور دنیا کے سامنے اس کے اصل چہرے کا انکشاف ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے عوام اور اداروں پر یہ قومی فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا عملی مظاہرہ کریں اور ان کی جدوجہدِ آزادی میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ مقررین نے بھارتی حکومت کی جانب سے آبادی کا تناسب بدلنے، مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے، اور مسلم شناخت کو مسخ کرنے کی سازشوں کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل فوجی محاصرہ، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور جبری اقدامات نہ صرف عالمی برادری کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ آخر میں مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی قوم کشمیری عوام کی جائز، قانونی اور پرامن جدوجہدِ آزادی کی مکمل حمایت جاری رکھے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نکالا جائے، تاکہ خطے میں مستقل امن قائم ہو سکے۔