تربت:لیویز فورس کا پولیس میں انضمام کی مخالفت میں پروگرام

تربت:(گدروشیاپوئنٹ) بلوچستان لیویز فورس کے افسران اور جوانان نے تربت سرکٹ ہاؤس ایک پروگرام انقعاد کیا جس میں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے لیویز فورس کو پولیس میں زبردستی ضم کرنے کے عمل کی شدید مخالفت کی اور اسے نہ صرف بلوچستان کے امن و امان کے لیے خطرناک قرار دیا بلکہ آئین و قانون کے خلاف اقدام قرار دیا۔
افسران نے کہا کہ لیویز فورس ایک فعال، مقامی، بااعتماد اور قبائلی ڈھانچے کی حامل فورس ہے جس نے ہمیشہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 90 فیصد اضلاع میں لیویز فورس سیکیورٹی کے فرائض سر انجام دے رہی ہے، اور موجودہ حکومت لیویز کو پولیس میں ضم کرکے ایک نیا بحران پیدا کرنا چاہتی ہے۔

افسران نے وضاحت کی کہ بلوچستان لیویز فورس کا وجود بلوچستان لیویز فورس ایکٹ 2010 کے تحت ہے اور “B-2 کیڈر” میں بھرتی کیے گئے اہلکاروں کو “A” یا “B کیڈر” میں تبدیل کرنا قانونی طور پر ممکن نہیں جب تک عدالت کا فیصلہ نہ آجائے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سلسلے میں عدالت کی جانب سے حکمِ امتناع جاری ہے جس کے تحت کسی بھی زبردستی اقدام کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

پروگرام میں یہ بھی کہا گیا کہ 15 جولائی 2025 کو منعقدہ اجلاس میں لیویز فورس کے انضمام کے حوالے سے جن فیصلوں کی منظوری دی گئی، وہ نہ صرف عدالتی حکم کے برخلاف ہیں بلکہ بلوچستان کے مقامی انتظامی ڈھانچے اور لیویز کے کردار کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

مزید کہا گیا کہ لیویز فورس کی قربانیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں لیویز ہی امن قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ 16 جولائی 2025 کو ایک لیویز اہلکار کی شہادت کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے وقت میں لیویز کے کردار کو ختم کرنا شہداء کی قربانیوں کی توہین کے مترادف ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نئے کورسز کے ذریعے لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کی کوشش کرتی ہے تو یہ عدالتی حکم کی کھلی خلاف ورزی ہو گی۔افسران اور جوانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عدالت کے حتمی فیصلے تک انضمام سے متعلق کسی بھی قسم کے عملی اقدام سے باز رہے، کیونکہ عدالت کے فیصلے سے قبل کسی بھی قسم کی کارروائی آئینی اور قانونی طور پر ممکن نہیں۔

پروگرام کے اختتام پر لیویز افسران نے کہا ہم قانون اور آئین کی پاسداری کے پابند ہیں۔ عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی ہم اس کا احترام کریں گے، لیکن جب تک عدالتی فیصلہ سامنے نہ آجائے، حکومت کو بھی کسی قسم کا اقدام نہیں اٹھانا چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تمام امور قانونی اور آئینی دائرہ کار میں رہ کر طے کیے جائیں تاکہ انصاف قائم رہے اور اداروں کی ساکھ متاثر نہ ہو