تربت: ضلع کیچ میں ترقیاتی منصوبوں پر سیمینار — اجتماعی فلاح اولین ترجیح ہے، ڈی سی بشیر احمد بڑیچ

تربت(گدروشیا پوائنٹ) ضلعی انتظامیہ کیچ کے زیر اہتمام سرکٹ ہاؤس تربت میں ضلع کے کے عوامی اجتماعی مسائل کی نشاندہی کے سلسلے میں ایک سیمینار ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ منعقد ہوا۔ جس میں قبائلی عمائدین، علاقائی معتبرین، یونین کونسل چیئرمینز اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
سیمینار کی صدارت ڈپٹی کمشنر کیچ، بشیر احمد بڑیچ نے کی، جب کہ اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد جان بلوچ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر تابش علی اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔
ڈپٹی کمشنر کیچ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں صحت، تعلیم اور پانی جیسے بنیادی مسائل کا حل سرفہرست ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایسے علاقوں میں جہاں بی ایچ یو یا آر ایچ سی تو موجود ہیں مگر عملہ یا ضروری مشینری نہیں، فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ اگر کسی مرکز میں ایکسرے یا سی بی سی مشین درکار ہو اور عملہ موجود ہو تو مشینیں فراہم کی جائیں گی۔
ڈی سی نے ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کو سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیہی مراکز میں تعینات ڈاکٹروں کے لیے رہائشی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں نبھا سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں صرف وہی اسکیمیں شامل کی جائیں گی جو اجتماعی فلاح سے متعلق ہوں۔ غیر ضروری سڑکوں یا سیوریج لائنوں پر فنڈز ضائع نہیں کیے جائیں گے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع کیچ اس وقت قحط سالی اور پانی کی شدید قلت سے دوچار ہے، اس لیے پینے کے پانی کی فراہمی کے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے پی سی ون صرف میرٹ اور معیار کی بنیاد پر منظور کیے جائیں گے، اور مقامی افراد خود ان منصوبوں کی نگرانی کریں گے۔ انفرادی نوعیت کی اسکیموں کو شامل نہیں کیا جائے گا۔
ڈی سی نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں ہوشاپ، پیدارک، دشت اور بلنگور کو منصوبہ بندی میں شامل کیا گیا ہے، جب کہ دوسرے مرحلے میں بلیدہ اور زامران کے علاقوں کو شامل کیا جائے گا۔ تعلیمی بہتری کے تحت گرلز اسکولوں کے لیے اسپورٹس گراؤنڈز کی تعمیر کو بھی ترجیح دی جائے گی۔
شرکاء کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے علاقوں کے مسائل سے متعلق درخواستیں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر تابش علی یا سپرنٹنڈنٹ اعجاز کے پاس جمع کرائیں، جن پر فوری کارروائی کی جائے گی۔
سیمینار کے اختتام پر علاقائی معتبرین نے اپنے علاقوں کے مسائل پیش کیے، جنہیں ضلعی انتظامیہ نے سنجیدگی سے سنا اور جلد اقدامات کی یقین دہانی کرائی