مکران میڈیکل کالج کے 40 کنٹریکٹ ملازمین مستقل نہ کیے جانے کی وجہ سے شدید پریشانی اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ واجہ ابوالحسن بلوچ

تربت(گدروشیا پوائنٹ) نیشنل پارٹی کے سنٹرل کمیٹی کے رکن واجہ ابوالحسن بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مکران میڈیکل کالج کے 40 کنٹریکٹ ملازمین مستقل نہ کیے جانے کی وجہ سے شدید پریشانی اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ ان ملازمین نے کالج کے قیام سے لے کر آج تک ادارے کی تعمیر و ترقی میں ہر شعبے میں بھرپور اور قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔

واجہ ابوالحسن بلوچ نے کہا کہ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ 15 سالہ خدمات کے باوجود یہ 40 ملازمین تاحال کنٹریکٹ کی بنیاد پر کام کرنے پر مجبور ہیں، جو کہ سراسر ناانصافی کے مترادف ہے۔ کسی ادارے میں 15 سال کام کرنا محض نوکری نہیں بلکہ اپنی زندگی کا ایک قیمتی حصہ اس ادارے کے لیے وقف کرنا ہے۔ اس کے باوجود بلوچستان حکومت کی جانب سے انہیں مستقل نہ کرنا نہ صرف ان کے حقوق کی نفی ہے بلکہ ان کے ساتھ زیادتی بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مکران میڈیکل کالج کے ایک وفد نے نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے ملاقات کر کے اپنے مسائل سے آگاہ کیا، جس پر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مکمل یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی ہر فورم پر ان ملازمین کی آواز بلند کرے گی اور ان کی مستقلی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔

واجہ ابوالحسن بلوچ نے ملازمین کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو تنہا نہ سمجھیں، نیشنل پارٹی ان کے ساتھ ہے اور ان کے حقوق کی جنگ ہر سطح پر لڑے گی۔ کنٹریکٹ کی بنیاد پر کام کرنے کی وجہ سے نہ صرف ان کی ملازمت غیر محفوظ ہے بلکہ ان کے مستقبل، سروس اسٹرکچر اور ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے پرزور اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے مکران میڈیکل کالج کے 40 کنٹریکٹ ملازمین کو فوری طور پر مستقل کرنے کے احکامات جاری کریں۔