تربت: عبدوئی بارڈر کی صورتحال پر حق دو تحریک کیچ کا عوامی جرگہ، مسائل اور مطالبات پیش

تربت ( نمائندہ: گدروشیا پوائنٹ) حق دو تحریک بلوچستان کیچ کے زیراہتمام 19 جولائی 2025 کو کیساک شیوانی میں محمد زئی فام ہاؤس میں عبدوئی بارڈر ٹریڈ کی تازہ صورتحال پر ایک اہم عوامی جرگہ حق دو تحریک بلوچستان کے مرکزی وائس چیئرمین حاجی ناصر پلیزئی، ضلعی چیئرمین کیچ صادق فتح کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اس جرگے میں بلیدہ، زامران، تگران، مند، تمپ، ہوشاب اور تربت سے تعلق رکھنے والے گاڑی مالکان، ڈرائیورز، علاقائی معتبرین، سیاسی و سماجی کارکنان اور حق دو تحریک ضلع کیچ کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جرگے میں عبدوئی بارڈر پر نافذ نئی پالیسی، ڈبل بھاڑ، بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور ریاستی اداروں کے مبینہ جابرانہ اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ موجودہ بارڈر سسٹم عوام کے لیے شدید اذیت اور استحصال کا سبب بن چکا ہے۔ وہاں نہ شیلٹر ہے، نہ پینے کا پانی، نہ واش روم، اور نہ دیگر بنیادی انسانی سہولیات میسر ہیں۔ مزید کہا گیا کہ بارڈر نوبت لسٹ میں شامل 600 گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے، جو غریب مزدوروں کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔

حق دو تحریک بلوچستان کے مرکزی وائس چیئرمین حاجی ناصر پلیزئی، ضلعی چیئرمین کیچ صادق فتح اور دیگر مقررین نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مظلوم عوام کی آواز ہیں، ہمارا مقصد پرامن اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے بنیادی انسانی حقوق کا حصول ہے۔ ہم بارڈر پر بلا رکاوٹ روزگار اور تجارت کے حامی ہیں۔ عبدوئی بارڈر کی حالیہ بحالی عوام کی قربانیوں کا نتیجہ ہے، مگر موجودہ پالیسیاں ان ہی عوام کے لیے مزید مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ حق دو تحریک کے رہنماؤں نے زور دیا کہ ڈپٹی کمشنر کیچ کی جانب سے کیے گئے وعدوں، خصوصاً شیلٹر، پانی، اور واش رومز کی فراہمی پر فوری عمل درآمد کیا جائے، بصورت دیگر آئینی و قانونی مزاحمت کا حق محفوظ رکھا جائے گا۔ جبکہ جرگے میں مشترکہ مطالبات کیئے گئے کہ
عبدوئی بارڈر پر ڈبل بھاڑ ختم کر کے سنگل بھاڑ بحال کیا جائے اور مزدوروں کو سہولیات دی جائیں۔

ڈرائیورز، گاڑی مالکان اور مزدوروں کی آمد و رفت پر کسی قسم کی پابندی نہ لگائی جائے۔

بارڈر پر دکان، ہوٹل، ورکشاپ، نانبائی و دیگر کاروبار کی اجازت دی جائے۔

ایران سے اشیائے خوردونوش کی ترسیل پر کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

آدھی یا خالی گاڑیوں کو گیٹ سے واپس نہ کیا جائے۔

ایران سے آنے والی گاڑیوں کو لوڈ اور خالی ہونے میں کسی پابندی کا سامنا نہ ہو۔

بارڈر نوبت لسٹ کو سابقہ پوزیشن پر بحال کر کے 600 گاڑیوں کی فہرست جاری کی جائے۔

ماسٹر لسٹ میں موجود بلاک شدہ ناموں کو ان بلاک کر کے ان کو روزگار کا حق دیا جائے۔

مزید کہا گیا کہ حکومت اگر روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں کر سکتی، تو موجودہ ذرائع روزگار پر قدغن نہ لگائے۔ ہفتہ و جمعہ کی بندشیں مزدور طبقے سے نان شبینہ کا حق چھیننے کے مترادف ہیں۔ تحریک نے اعلان کیا کہ ضلع و تحصیل کی سطح پر عوامی آگاہی مہم شروع کی جائے گی اور تمام علاقوں کا دورہ کر کے روزگار کے تحفظ اور بارڈر بحالی کے لیے منظم کوششیں کی جائیں گی۔ اس موقع پر شرکاء کیلئے تحریک کی جانب سے ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا۔