تمپ (گدروشیا پوائنٹ) تمپ کے تینوں فیڈرز تمپ سٹی، گومازی اور بالیچہ سے 16 جولائی کی شام سے بجلی کی فراہمی اچانک معطل ہو گئی ہے، جس کے باعث علاقہ مکین بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں۔ بجلی کی بندش کو تین دن گزر چکے ہیں لیکن تاحال مسئلہ حل نہیں کیا جا سکا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ہر ماہ 30 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری کے باوجود معاہدے کے مطابق فراہم کی جانے والی 10 گھنٹے کی بجلی بھی نہیں دی جا رہی۔ گرمی کی شدت میں مساجد، گھروں اور بازاروں میں پانی ناپید ہو چکا ہے جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔ عوام نے الزام عائد کیا ہے کہ کیسکو حکام محض زبانی دعوے کرتے ہیں اور ایران سے بجلی کی کمی کو بہانہ بنا کر تمپ کے عوام کو مسلسل دھوکہ دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اگر ایران سے بجلی کی فراہمی میں کمی واقع ہو بھی گئی ہو، تو مکران ڈویژن کے دیگر علاقوں کو نیشنل گرڈ سے بجلی فراہم کی جاتی ہے، لیکن تمپ اور مند جیسے علاقوں کو آج تک نیشنل گرڈ سے بجلی دینا تربت کے کیسکو افسران کے لیے صرف خواب ہی رہا ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ تمپ کی عوام بھی نیشنل گرڈ کی بجلی کی اتنی ہی حقدار ہے جتنے دیگر علاقے، مگر کیسکو کی ہٹ دھرمی اب بھی برقرار ہے۔ حیرت انگیز طور پر کیسکو گرڈ اسٹیشن کی جانب سے تاحال کوئی وضاحت یا اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔ مقامی شہریوں نے واپڈا دفتر، چیف کیسکو، ایکسیئن اور ایس ڈی او سے رابطے کیے، مگر کسی نے تسلی بخش جواب دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تمپ میں باقاعدہ گھر گھر چندہ کر کے لاکھوں روپے کی ریکوری ہر ماہ خود عوامی تعاون سے کی جاتی ہے، اور بل بینک میں جمع کرائے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بجلی کی فراہمی کا نظام بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔

