بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود بی ایم سی کے پرنسپل کی جانب سے پی جی ٹرینیز کو ہراساں کیے جانے کا سلسلہ جاری مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی 25 خواتین ڈاکٹرز کو رہائش سے محروم کر دیا گیا، پی جی ٹرینیز کا الزام

بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود بی ایم سی کے پرنسپل کی جانب سے پی جی ٹرینیز کو ہراساں کیے جانے کا سلسلہ جاری مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی 25 خواتین ڈاکٹرز کو رہائش سے محروم کر دیا گیا، پی جی ٹرینیز کا الزام

بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود بی ایم سی کے پرنسپل کی جانب سے پی جی ٹرینیز کو ہراساں کیے جانے کا سلسلہ جاری مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی 25 خواتین ڈاکٹرز کو رہائش سے محروم کر دیا گیا، پی جی ٹرینیز کا الزام

کوئٹہ (گدروشیا پوائنٹ) بولان میڈیکل کالج (بی ایم سی) اور سول ہسپتال میں تعینات 25 سے زائد خواتین پوسٹ گریجویٹ (پی جی) ٹرینیز نے الزام عائد کیا ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود انہیں نہ صرف رہائش فراہم نہیں کی جا رہی بلکہ ہراسانی اور توہین آمیز سلوک کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔

متاثرہ ٹرینیز کا کہنا ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ پی جی ٹرینیز کو بی ایم سی کمپلیکس کے اندر رہائش دی جائے، لیکن پرنسپل ان عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ نہ وہ مین ہاسٹل میں جگہ دینے پر راضی ہیں اور نہ ہی خالی پڑے کوویڈ ہاسٹل کو کھولنے پر آمادہ ہیں۔

ٹرینیز نے بتایا کہ وہ بلوچستان کے مختلف اضلاع جیسے کیچ، پنجگور، قلات، خاران اور واشک سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے لیے نہ شہر میں رہائش کا انتظام ممکن ہے اور نہ ہی نجی رہائش کا خرچہ برداشت کیا جا سکتا ہے۔

ایک خاتون ٹرینی نے روتے ہوئے کہا ہم بلوچستان کی بیٹیاں ہیں، دور دراز علاقوں سے آئی ہیں، یہ کیسا انصاف ہے کہ ہمیں رات کے اندھیرے میں ہاسٹل سے زبردستی نکالا جاتا ہے؟

ایک خاتون ٹرینی نے جذباتی انداز میں کہا، “پرنسپل نے اپنی بیٹیوں کو تو چادر اور چار دیواری کے اندر محفوظ رکھا ہے، مگر ہمیں رات کے وقت ہاسٹل کے دروازے پر کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ یہ کیسا نظام ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ پرنسپل نہ صرف بدزبانی کرتے ہیں بلکہ سیکیورٹی گارڈز کو حکم دیتے ہیں کہ پی جیز کو ہاسٹل میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ عدالت میں کیس زیر سماعت ہونے