آواران(گدروشیا پوائنٹ) ڈپٹی کمشنر آواران انجینئر عائشہ زہری کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا. اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سمیت کلسٹرز و دیگر زمہ داران نے شرکت کی. اجلاس میں ڈسٹرکٹ آواران میں تعلیمی نظام پر انقلابی بنیادوں پر کام کے حوالے سے اہم فیصلے کیئے گئے. اجلاس میں ضلع میں تمام تعلیمی اداروں/ سکولوں کو فعال بنانے تعلیمی ماحول میں اضافہ اور شعبہ تعلیم میں بہتری و اصلاحات لانے کے فیصلہ کیا گیا. اجلاس میں فیصلہ ہواکہ ایجوکیشن کو فوقیت دینے اور علمی ماحول قائم کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیئے جائیں گے. اجلاس میں غیر حاضر اساتذہ کی نشاندہی اور ضابطہ و قانون کے تحت ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بارے میں غور و خوض کیا گیا. ڈپٹی کمشنر نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آواران میں تعلیمی معیار و میرٹ پر کوئی بھی سمجھوتہ قبول نہیں کی جائیگی. آواران میں بند سکول کو ہر حال میں فعال کرنے کا فیصلہ، کلسٹرز بجٹ جاری کرکے چیک اینڈ بیلنس رکھنے کا بھی فیصلہ
غیر حاضر اساتذہ کسی رعایت کے مستحق نہیں، بچوں کے مستقبل کو تباہ کرنے والے غیر حاضر پائے گئے اساتذہ اپنے کو ملازمت سے فارغ سمجھیں
آواران ضلع میں اسکولز کو فعال بنانے تعلیمی اداروں کو آباد رکھنے کے لئے تمام تر کوششیں بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن کے معیار و میرٹ پر سفارش قبول نہیں یہ ہماری نسل نو کا مسئلہ ہے ہمیں جہالت کی بجائے تعلیم سے روشناس نسل نو تیار کرنا ہوگا ا س کے لئے اساتذہ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرض منصبی سے کوتاہی برتنے کی بجائے درس و تدریس پر توجہ دیں تعلیم یافتہ کا خواب پورا کریں. انہوں نے کہاکہ ایجوکیشن ایک ایسا شعبہ ہے کہ یہ جذبہ مانگتا ہے اور جذبے کے تحت تعلیمی ترقی کے لئے اقدامات عمل میں لانے کی ضرورت ہے اساتذہ اور آفیسران اپنی محنت اور کوششیں جاری رکھیں۔

