مکران کے عوام کوچز مافیا کی بلیک میلنگ پر خاموش رہنے کی بجائے اس پر احتجاج کریں، خالد ولید سیفی، نائب امیر جے یو ائی بلوچستان

تربت (گدروشیا پوائنٹ) جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے نائب امیر خالد ولید سیفی نے کہاہےکہ گزشتہ چار روز سے مکران کوچز کی ہڑتال سے ٹرانسپورٹ مکمل بند ہیں ، مریض سے لے کر طلباء شدید مشکلات سے دو چار ہیں ، مکران کوچز اب ایک مکمل مافیا کی شکل اختیار کرگیا ہے ، ان کوچز کا بنیادی معاملہ ڈیزل کی ترسیل ہے ، یہ ڈیزل کے نام پر منوں بارود مسافر کوچز میں لے جاتے ہیں ، ان کوچز کا اصل کام ڈیزل کی ترسیل ہے اس لیے دوران سفر مسافروں کا حال جانوروں جیسا ہوتا ہے ، راستے میں جن ہوٹلز میں یہ کوچز رکتی ہیں وہاں مسافروں کو آدھی پکی باسی ہوئی دال کی پلیٹ بھی تین سو سے چار سو خریدنا ہوتا ہے ۔

مسافروں کو ڈیزل آف لوڈ کرنے کے دوران ایک اسٹاپ پر دو گھنٹے کی اذیت سے گزرنا ہوتا ہے ، نارمل انسان سہہ لیتا ہے لیکن مکران سے بیشتر لوگ بیماریوں کے سلسلے میں مکران سے کراچی کا سفر کرتے ہیں ، اس دوران ان کی حالت غیر ہوتی ہے ، بے تربیت عملے کا رویہ مستزاد ہے ۔

حالیہ ہڑتال کا جواز چیک پوسٹوں میں چیکنگ کو بنایا جارہا ہے لیکن اصل معاملہ ڈیزل کی ترسیل میں کچھ رکاوٹیں ہیں ، یا سرکار کوچز میں ڈیزل کی ترسیل کو بھی ٹوکن پر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ، کیونکہ سرکار نے بھی اپنا پیٹ بھرنا ہوتا ہے

کوچز مالکان ڈیزل کا بزنس ضرور کریں لیکن کوچز مسافر برداری کےلیے ہوتی ہیں ، ڈیزل کےلیے نہیں بنائی گئی ہوتی ہیں ، یہ بات یقینی ہے کہ ان کوچز یونین نے ایک دن بھی مسافروں کی مشکلات کو مدنظر رکھ کر کوئی احتجاج نہیں کیا ہے ، ٹرمینل میں مسافروں کو اتار کر انہیں سندھ پولیس کی بے رحمی کے حوالے کیا جاتا ہے ، یہ سو دو سو اضافی کرایہ لے کر ٹرمینل سے شٹل سروس بھی شروع کرسکتے ہیں لیکن انہیں کبھی ان کی توفیق نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی ہوگی ۔
مکران کا بارڈر بند ہے ، بجلی بند ہے ، ٹرانسپورٹ بند ہیں ، سیاسی جماعتیں ووٹ لینے کے بعد ایسے غائب ہو جاتی ہیں جیسے کبھی ان کا وجود نہ تھا ۔

مکران کے عوام کوچز مافیا کی بلیک میلنگ پر خاموش رہنے کی بجائے اس پر احتجاج کریں۔۔۔!!