“بلوچستان ہائی کورٹ بمقابلہ ہوم سیکرٹری” علی احمد کرد

“بلوچستان ہائی کورٹ بمقابلہ ہوم سیکرٹری”

علی احمد کرد، سینئر قانوندان سپریم کورٹ اف پاکستان

بلوچستان ہائی کورٹ میں ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی ایم پی او کے تحت نظربندی کی قید کو چیلنج کرنے والی درخواست کو بالاخر خارج کر دیا گیا , 6 دن تک فیصلہ محفوظ رکھنے کے باوجود کافی سوچ و بچار کے بعد یہ قانونی نقطہ دریافت کیا گیا کہ صوبے کی سب سے بڑی عدالت کے پاس نظر بندی کی اس معمولی درخواست کے لیے اختیار سماعت موجود نہیں اور پٹیشنر کو یہ ہدایت کی گئی کہ ہوم سیکرٹری حکومت بلوچستان اس پہ زیادہ بہتر صحیح فیصلہ کر سکتے ہیں , دور جانے کی ضرورت نہیں ابھی کل ہی کی بات ہے بھٹو صاحب کے دور میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت کی برطرفی کے خلاف کئی دفعہ کی میری اپنی نظر بندی کو اسی ہائی کورٹ نے امتیاز حسین حنفی باقری ایڈوکیٹ ، کے محض دس پند رہ منٹ کی بحث سننے کے بعد مجھے رہا کرتی رہی ہے. مگر ماہرنگ بلوچ کے اج کی پٹیشن میں نہ جانے کہاں سےحکومت بلوچستان کا ایک سرکاری اہلکار ہوم سیکرٹری ، ہائی کورٹ جیسی بڑی عدالت سے زیادہ با اختیار اور معتبر قرار دے دیا گیا چلو مان لیتے ہیں کہ ہائی کورٹ کی بجائے دائرہ اختیار سماعت ہوم سیکرٹری کے پاس ہے تو ہائی کورٹ نےماہرنگ بلوچ کی نظر بندی کے خلاف اس پٹیشن کو بغرض سماعت/ شنوائی کیوں ایڈمٹ کیا اور کیوں ماہرنگ بلوچ کے وکیل اور ایڈوکیٹ جنرل کی بحث سماعت کی اور کیوں خصوصیت سے ائین پاکستان کے ارٹیکل ۵ کے تحت حلف نامہ داخل کرنے کا تقاضہ کیا حالانکہ روز روشن کی طرح یہ حقیقت عیان ہے کہ ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار سماعت میں سب سے طاقتور ارٹیکل 199 ہے جس کے تحت ہائی کورٹ حکومت وقت کے جاری کردہ کسی بھی ارڈر حکم اور نوٹیفیکیشن کو قانونی طور پہ جانچ پڑتال کرنے کا اختیار ہمیشہ اپنے پاس رکھتی ہے اور محض معمولی سی بد نیتی اور کسی بھی قانون کی رو گردانی کی بنا , پر اپنا اختیار استعمال کر کے لوگوں کو ریلیف / دادرسی مہیا کرتی ہے ، اسی اختیار کے تحت اسی بلوچستان ہائی کورٹ کہے انتہائی معزز جج صاحبان میر خدا بخش مری ایم اے رشید اور چوہدری عبدالقدیر نے ضیاء الحق کے انتہائی بدترین مارشل لا ءکے دوران ملٹری کورٹ کی سیاسی لوگوں اور دیگر 65 سے زیادہ افراد , بشمول حمید بلوچ شہید کو دی جانے والی سزائے موت پر پورے تین سال تک عمل درامد روکے رکھا اور اس تمام عرصے میں اس زمانے کی ملٹری کورٹ کو یہ جرات نہیں تھی کہ ایک شخص کو بھی پھانسی پہ چڑھا سکے اور ضیاء الحق جیسا بدترین ڈکٹیٹر اسی بلوچستان ہائی کورٹ کے معزز جج صاحبان کے اپنے دائرہ اختیارات سماعت استعمال کرنے کے سامنے بے بس ہوا اور پہلا پی سی او جاری کیا جس کے تحت میر خدابخش مری اور ایم اے رشید کو ان کے اپنے عہدے سے محروم کر دیا گیا لیکن اج بھی ان تینوں جج صاحبان کا نام پورے احترام سے لیا جاتا ہے.