تربت(گدروشیاپوائنٹ) انجمن تاجران کیچ رجسٹرڈ کا اہم اجلاس چیئرمین نثار آدم جوسکی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مشاورتی کمیٹی کے اراکین اسحٰق روشن دشتی، غلام اعظم دشتی، اعجاز علی محمد جوسکی، حاجی کریم بخش، رمضان زہری، یونس حمید اور عقیل مراد شریک تھے۔ اجلاس میں کیسکو کی جانب سے جاری بلاجواز اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے متفقہ فیصلہ کیا کہ اگر کیسکو نے فوری طور پر اپنی روش نہ بدلی تو اس کے خلاف بھرپور اور منظم احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ اجلاس میں ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی گئی کہ ایران بارڈر کو فوری طور پر ہر قسم کی کاروباری سرگرمیوں کے لیے کھولا جائے، کیونکہ اس کی مسلسل بندش سے نہ صرف بارڈر سے وابستہ مزدور طبقہ بلکہ مقامی کاروباری حضرات بھی سخت معاشی مشکلات کا شکار ہیں. سبزی منڈی کی سری کہن منتقلی کے معاملے پر اجلاس میں تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ انجمن تاجران، سبزی منڈی یونین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور اعلان کیا کہ موجودہ صورتِ حال میں سری کہن منتقلی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی، کیونکہ وہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ اگر انتظامیہ نے زبردستی کی کوشش کی تو انجمن تاجران احتجاج، ہڑتال اور دیگر جمہوری ذرائع کا استعمال کرے گی۔ تاہم، اگر میونسپل کارپوریشن اور انتظامیہ تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائیں تو منتقلی پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اجلاس کے آخر میں تربت شہر میں امن و امان کی ابتر صورتِ حال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ شہر کو چوروں، ڈکیتوں اور جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ انتظامیہ اور پولیس بے بس نظر آتی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر متعلقہ ادارے حالات پر قابو پانے میں ناکام رہے تو انجمن تاجران سخت احتجاج اور ہڑتال جیسے اقدامات سے گریز نہیں کرے گی۔

