لاپتہ والد ظہیر احمد کی فیملی کا انکی گمشدگی کے حوالے سے 13 اپریل 2025 کو سیمنار منعقد کرنے کا اعلان

پنجگور(گدروشیاپوائنٹ، فرید عمر)پنجگور کے علاقہ خدابادان سے تعلق رکھنے والے لاپتہ ظہیر احمد بلوچ کی بیٹی ادیبہ ظہیر اور زویہ ظہیر نے اپنے فیملی کے دیگر ممبران کے ہمراہ پنجگور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد ظہیر احمد کو 13 اپریل 2015 کو سرکاری اہلکاروں نے اٹھاکر لاپتہ کردیا تھا تا حال اس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے۔ اسلام آباد سے لیکر بلوچستان تک ہم نے انصاف کے تمام دروازوں پر دستک دیئے لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔ اس دوران اداروں اور حکومت کی جانب سے جھوٹی تسلیاں ضرور ملی لیکن وہ خواب بن کر رہ گئے۔ انہوں نے اپنے لاپتہ والد ظہیر احمد کی جبری گمشدگی کے حوالے سے 13 اپریل 2025 کو پنجگور میں سیمنار منعقد کرنے کا اعلان کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وقت اور مقام کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگی ایک غیر قانونی اور غیر آئینی عمل ہے کسی بھی نوجوان کو گھر سے اٹھاکر چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنے کی نہ شریعت اجازت دیتی ہے نہ ہمارے بلوچی معاشرے میں اس کی گنجائش ہے۔اگر کوئی گناہ گار یا ملزم ہے تو ملک کے آئین اور قانون کے مطابق ان کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس 10 سال سے ہم سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے پورے ملک کے اندر اپنی آواز پہنچائی ہے اور لاپتہ زہیر احمد کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے لیکن دس 10 سال گزرنے کے باوجود تا حال ان کو بازیاب نہیں کیا گیا وہ کس حال میں ہیں اور کہاں ہے یہ بھی نہیں بتایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ہماری پوری فیملی قرب اور ازیت میں مبتلا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کے پارلیمانی اداروں اور عوامی نمائندوں سے ہمارا اعتما اٹھ چکا ہے حالانکہ بحیثیت عوامی نمائندہ ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے آواز اٹھائیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت صرف زہیر احمد نہیں بلکہ ہزاروں نوجوان لاپتہ ہیں ان سب کی بازیابی کیلئے موثر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے جبری گمشدگی کے حوالے سے جو خاندان متاثر ہیں ان کے گھر جاکر دیکھیں کہ وہ کس حال میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 13 اپریل 2025 کو ہونے والے سیمنار کے تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے آئندہ چن دنوں میں سیمنار کے مقام کا اعلان کیا جائے گا۔