پسنی (گدروشیا پوائنٹ) حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ اور پی بی 24 گوادر کے امیدوار مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا ہے کہ ہمارا مقابلہ سرمایہ داروں سے ہے انہوں نے کہا الیکشن کے دن لوگوں کو گھروں سے نکالنے کے لیے ہمارے پاس وسائل نہیں ان خیالات کا اظہار انہوں اپنے الیکشن مہم کے سلسلے میں پسنی میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا۔
مولانا ہدایت الرحمان نے کہا حق دو تحریک گزشتہ تین سالوں سے روزگار، صحت ،تعلیم اور غیرت کے لیے جدوجہد کررہی ہے ہمیں اس وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ ہم نے کیوں عوام کی بات کی ہے ہمارے کارکنان پر مقدمات بنائے گئے اور ہمیں کہا گیا کہ لینڈ مافیا،ڈرگ مافیا اور ٹرالرمافیا کا نام مت لیں لیکن ہمارے کارکنان نے ہر تشدد برداشت کیا جدوجہد کی اور اپنے تحریک کو نہیں چھوڑا۔
انہوں نے کہا کہ ضلع گوادر میں صحت ،تعلیم ،روزگار کا نظام تباہ ہے اور ہمارے ساحل سمندر کو ہم سے چھینا گیا ہے ہمارے لوگوں کو بارڈر پر کاروبار کرنے کا حق حاصل نہیں ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ضلع گوادر کے عوام پر کوسٹ گارڈ مسلط کیا اور آج کچھ نادان لوگ پھر پی پی پی کے جھنڈے کو اپنے گلے سے لگا رہے ہیں اور آج لینڈ مافیا اور ڈرگ مافیا ایک دوسرے ساتھ ہیں گزشتہ الیکشن میں ایک دوسرے کو لینڈ مافیا اور ڈرگ مافیا کہنے والے آج ایک دوسرے کو بری الزمہ قرار دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ صرف اپنا بنک بیلنس بڑھانے کے لیے یکجاہ ہوئے ہیں اِنہیں بلوچ عوام کا کوئی درد نہیں ہے اور یہ ماہی گیروں کو متحد اور یکجاہ دیکھنے کے بعد یکجاہ ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ قوم کے وسائل اور بلوچ عوام سے اُنکی خوشیاں اور سکون چھینے والے میر کہلاتے ہیں ان لوگوں نے بلوچ قوم کو بے سکون کردیا ہے ہمارے لوگ تڑپ تڑپ کر جان دیتے ہیں اور یہ اپنے لوگوں کو علاج کے لیے باہر کے ملکوں میں بھیج دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم انہی قوتوں کے خلاف میدان میں نکلے ہیں ہمارا مقابلہ سرمایہ داروں سے ہے اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ کامیاب ہونے کی صورت میں ہم بلوچستان کے سمندر سے ٹرالر مافیا کو بھگائینگے اور حق دو تحریک ہرقوت کے خلاف مذاحمت کریگی انہوں نے کہا ہم پسنی کے عوام کو پیشگی خوشخبری دینا چاہتے ہیں کہ 8 فروری کو ہم مخالفین کی کشتیاں بحر بلوچ میں ڈبودینگے۔
جلسہ عام سے حلقہ کیچ کم گوادر 259 کے امیدوار حسین واڈیلہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع گوادر کے عوام لوگوں کی ماضی کو ضرور دیکھیں انہوں نے کہا کہ مکران جو دانشور اور ادیبوں کا مسکن ہے لیکن آج یہاں ایک شخص کو مسلط کیا جارہا ہے اور تاریخ میں پہلی بار ایک ایسا الیکشن ہورہا ہے جس میں ایک جانب غریب عوام کھڑی ہے تو دوسری طرف طاقتور طبقہ اور سرکاری میشنری کھڑی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچ اپنے وطن میں سیاسی اختیار چاہتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں انقلاب سرمایہ دار اور امیروں نے نہیں بلکہ غریب لیڈروں نے لایا۔

