تربت(گدروشیاپوائنٹ)تربت کے علاقہ آبسر کے رہائشی نوجوان بالاچ بلوچ ولد مولا بخش کی سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مبینہ جعلی مقابلے میں قتل کیخلاف بلوچستان کے شہر تربت کے مرکزی چوک پر آج ساتویں روز بھی دھرنا جاری رہا اوربلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر تربت، تمپ سمیت ضلع کیچ میں آج پھر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال،ایک دن کے وقفہ کیساتھ آج پانچ دنوں تربت کی دکان مارکیٹس بند رہے ۔ آج بروز بدھ کو تربت کی مرکزی چوک پرہزاروں افراد کی موجودگی میں بالاچ بلوچ کی جنازہ ادا کی گئی،جبکہ کوہ مراد زیارت پر سپردخاک کیا گیا۔ ذکری کمیونٹی کے سید حبیب شاہ اور سید گلزاردوست نے رسم ادا کیئے۔جنازہ اورتدفین میں سینکڑوں خواتین سمیت ہزاروں افرادشریک تھے،کیچ کی تاریخ میں پہلی بارتربت چوک پر سینکڑوں خواتین کی موجودگی میں جنازہ ادا کی گئی،جنازہ میں شہید بالاچ دیگر اراکین ،بلوچ کے ہمشیرہ نجمہ بلوچ سمیت فیملی کے حق دو تحریک بلوچستان کے قائدین مولاناہدایت الرحمن ،واجہ حسین واڈیلہ،سابق صوبائی نگران وزیر نوید کلمتی، صبغت اللہ ،وسیم سفر، صادق فتح، بی این پی مینگل کے ضلعی رہنما نصیر احمد گچکی،نیشنل پارٹی کے انجینئرحمید بلوچ ،آل پارٹیزکیچ، بلوچ یکجہتی کمیٹی ،بلوچ ویمن فورم سمیت سیاسی وطلبہ تنظیموں اورسول سوسائیٹیز کے لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے۔شہید فدا چوک پر جنازہ کی ادائیگی کے بعد میت کو ہزاروں افراد پر مشتمل ایک بڑی ریلی کی شکل میں آخری آرام گاہ کوہ مراد زیارت لے جایا گیا،دھرناگاہ اورچوک سے تین گھنٹے کے بعدریلی کے شرکاءکوہ مراد کے قبرستان پہنچے، جنازہ کی طرح ریلی میں بھی سینکڑوں خواتین سمیت ہزاروں افراد شامل تھے،ریلی شہید فدا چوک،سینیماچوک،تعلیمی چوک سے چاکر اعظم چوک تا پولیس لائن روڈ سے کوہ مراد پہنچی ۔وہ سپرد خاک کردیا گیا۔جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماﺅں نے گدروشیا پوائنٹ کو بتایا کہ حکومت نے دھرنا کمیٹی کے مطالبات منظورنہیں کیئے ہیں ہمارا مطالبہ ہے کہ بالاچ بلوچ کے نامزدتمام قاتلوں کو گرفتار کرکے سزا دی جائے۔ سی ٹی ڈٰی کو بلوچستان بھر میں غیر مسلح کرکے سی ٹی ڈی کے ذریعے بلوچ نسل کشی کا سلسلہ بند کیاجائے۔ سرکاری پشت پناہی میں چلنے والے ڈیتھ اسکواڈز کو بلوچستان بھر میں غیر مسلح کیا جائے۔تمام لاپتہ افراد اور بلخصوص ضلع کیچ کے زیرحراست 60نوجوانوں کورہا یا انہیں فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے ۔تربت سمیت بلوچستان میں جبری گمشدگی کا سلسلہ بند کیا جائے۔اور فیک انکاونٹر میں جتنے افراد کو قتل کیا گیا ہے ،حقائق سامنے لانے کیلئے عدالتی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔مطالبات کی منظوری تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔

