تربت: بلوچستان گرینڈ الائنس کی ڈی آر اے کے مطالبات پر احتجاجی ریلی، پریس کلب کے سامنے مظاہرہ

تربت(نمائندگان/گدروشیا پوائنٹ) بلوچستان گرینڈ الائنس کیچ کے تحت ریلی اور مظاہرہ، الائنس کے ضلعی قائدین کا خطاب تفصیلات کے مطابق سرکاری ملازمین کے اتحاد ’’بلوچستان گرینڈ الائنس‘‘ کے تحت ڈی آر اے کے مطالبے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف مرکزی کال پر بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت سے احتجاجی ریلی نکالی گئی،جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی تربت پریس کلب کے سامنے پہنچ کر احتجاجی مظاہرے میں تبدیل ہوگئی۔ احتجاج سے بلوچستان گرینڈ الائنس کیچ کے رہنماؤں اکبر علی اکبر، مفتی سعید احمد، گلاب احمد، ظریف عالیان، اکبر میاہ، سالم رحیم سمیت دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈی آر اے وفاقی طرز پر دیا جائے مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے اور چارٹر آف ڈیمانڈ پر فوری عملدرآمد کیا جائے مقررین نے واضح کیا کہ ڈی آر اے کی منظوری تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ملازمین کے درمیان فرق اور تعصب کا خاتمہ کرے اور وفاقی ملازمین و بلوچستان سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کے برابر تنخواہیں اور مراعات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پینشن میں کٹوتی، کنٹریکٹ پر بھرتیاں اور محکموں کی نجکاری کسی صورت قابلِ قبول نہیں، جبکہ لواحقین کوٹہ ہر حال میں بحال رکھا جائے۔ بلوچستان گرینڈ الائنس کیچ کے ضلعی قائدین ڈپٹی آرگنائزر پروفیسر شعیب سمین، سیکرٹری اطلاعات و میڈیا کوآرڈینیٹر صالح بلوچ، سیسا کیچ کے صدر کامریڈ رسول بخش،جی ٹی اے کیچ کے اکبر علی اکبر اور نسیم اکرم ودیگر ایپکا کیچ کے سبزل خان اور اکبر میاہ، ڈبلیو ٹی اے کیچ کے حاجی مفتی سعید احمد اور میر اللہ بخش، بی پی ایل کے پروفیسر سالم رحیم اور پروفیسر گلاب بلوچ، جونیئر ٹیچرز ایسوسی ایشن کیچ کے محمد قاسم بلوچ، فشریز ایمپلائز ایسوسی ایشن کے یاسین ظہیر، پمسا کیچ کے ظریف علیان، فارماسسٹ ایمپلائز کیچ کے عمران بلوچ سمیت دیگر تنظیمی نمائندوں ریلی اور مظاہرہ کیا سربراہی کررہے تھے۔ مظاہرہ سے مقررین نے کہا کہ صوبائی حکومت کی بے حسی اور غیر ذمہ دارانہ رویے نے سرکاری ملازمین کو ایک بار پھر احتجاج پر مجبور کر دیا ہے۔ DRA صوبائی ملازمین کا آئینی، قانونی اور مسلمہ حق ہے، جس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوا جائے گا۔ وفاقی حکومت، سندھ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے ملازمین کو یہ الاؤنس دیے جانے کے باوجود بلوچستان کے ملازمین کو محروم رکھنا کھلی ناانصافی اور امتیازی سلوک ہے۔ضلعی قائدین نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین ریاستی نظام کا بنیادی ستون ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں مہنگائی کے اس دور میں بنیادی مراعات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ایک ملک میں دو نظام اور دو معیار کسی صورت قابل قبول نہیں. انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وفاقی طرز پر بلوچستان کے ملازمین کو بھی فوری طور پر DRA سمیت تمام جائز مطالبات کی منظوری دی جائے اور اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ بصورت دیگر احتجاجی تحریک کو مزید منظم، وسیع اور سخت کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری حکومتِ وقت پر عائد ہوگی۔