تربت(گدروشیا پوائنٹ)بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے مکران میڈیکل کالج کے طلباء کے احتجاج کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کالج انتظامیہ کے غیر قانونی اقدامات کی سخت مذمت کی ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں کی کمی اور موجودہ اداروں میں وسائل کی شدید قلت کی وجہ سے طلباء ایک خوف، ڈر اور بے چینی کے ماحول میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ طلباء کو ہراسمنٹ، پروفائلنگ اور بلا جواز معطلی یا بیدخلی کے خطرات لاحق ہیں۔ کبھی انہیں ڈسپلنری کمیٹی کے نام پر خارج یا معطل کیا جاتا ہے، تو کبھی فیل، کم مارکس یا سپلیمنٹری کے بہانے بلیک میل کیا جاتا ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ یہ اعمال طلباء کے تعلیمی کیریئر پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں اور معاشرتی ترقی کے لیے تعلیم کی اہمیت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے مزید کہا کہ مکران میڈیکل کالج انتظامیہ نے حال ہی میں تھرڈ ایئر کے کچھ طلباء کو فیل کیا، جنہوں نے سپلیمنٹری امتحان بھی پاس کیا، لیکن انہیں دوبارہ فیل کر کے اینول کردیا گیا۔ کالج ہر سال صرف ایک طالب علم کو پوزیشن دے کر دیگر چالیس طلباء کو فیل کر کے اپنے نام کو ٹاپ لیول میں لانے کی کوشش کرتا ہے، جو کہ صریحاً ناانصافی ہے۔ کمیٹی نے کالج میں ڈائریکٹر آف میڈیکل ایجوکیشن کے نمائندے کے کام میں مداخلت پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جس نے امتحانات اور دیگر معاملات میں طلباء کے ساتھ ناانصافیوں کو جنم دیا۔ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف غیر قانونی بلکہ ناقابل قبول ہیں اور انہوں نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ طلباء کے جائز مطالبات کو فوری طور پر سنیں۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر عمل نہ ہوا تو وہ طلباء کے ساتھ مل کر پُرامن احتجاجی اقدامات کریں گے تاکہ طلباء کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
مرکزی ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی

